ہائے میرے بچے بہہ گئے ! تحریر: وقاص عزیز

یہ ویڈیو آپ بھی دیکھیں اور ذرا سا بھی اگر کلیجہ رکھتے ہیں تو اک سانس سکون کا لے کر دکھائیں ،یہ کلپ دیکھتے ہی مجھے اپنا اک شعر اور پاکستانی سماجی ،سیاسی ،معاشرتی منظرنامے جس طرح نظر آیا وہ بین السطور آپ بھی پڑھ لیجیے

گھروں تک آ گیا سیلاب لیکن
ہمیں قصے سنائے جا رہے ہیں

یہ ویڈیو نہیں ہے صدیوں بھرا اک طمانچہ ہے ان اینکرز کے ،کالم نگاروں کے ،دانشوڑوں کے، شاعروں کے منہ پر جو “شاہوں” کے قصیدے بیان کرتے نہیں تھکتے ،جو جعلی جمہوریت کی بحالی کے لئے ” عوام اور تاریخ کو گمراہ کرنے پر کمر بستہ ہیں ،جو آج عوام کے میر جعفر اور میر صادق ہیں ،اصل میں لٹیرے اور لوٹے تو یہ لوگ ہیں ،خیر میں موضوع سے ہٹ رہا ہوں ،کیا یہ امید کی جا سکتی ہے کہ اس باپ کو انصاف دلانے کے لئیے عدالتیں آدھی رات کو کھلیں گی؟ عوام کا انصاف پر یقین اور بالادستی بحال رکھنے کے لئیے سوموٹو لیا جاے گا اور ایسی صورتحال سے اج تک عوام کو کیوں نہیں نکالا جا سکا؟ متعلقہ ادارے ،افسران ،انتظامیہ ،بیوروکریٹ،سیاستدان کیا یہ سب کٹہرے میں کھڑے کئیے جائیں گے؟
مدعی صرف اک جملہ ” ہائے میرے بچے بہہ گئے ”
نہیں چیف جسٹس کو ،آرمی چیف کو ،عمران خان ،زرداری ،شہباز و نواز ،پرویز الہی ،ٹی وی اینکرز،اور دانشوروں کو یہ “بین” نہیں سنائی دیتے؟
اپنے بچے ہوں تو شاید سنائی دے جائیں ۔۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ جیالوں ،شیروں ،ٹائیگرز اور ٹائیگرسز کو بھی یہ سب دکھائی نہیں دیتا اور وہ اس بدبودار ،غلیظ نظام کے ان چہروں کو ووٹ دینے اور ڈانس کرنے پھر سے پہنچ جاتے ہیں ،کاش یہ سب جنوبی پنجاب جائیں ،وہاں جن کے بچے بہہ گئے پانی میں ،جن کے گھر گر گئے ،فصلیں تباہ ،مویشی مر گئے ،ان کے مستقبل کے لئیے کچھ کر چھوڑیں مگر نہیں ،ایسا کبھی نہیں ہو گا کیونکہ ہم سب “بدبودار” ہیں

نوٹ : ہم دوست ویب سائٹ اور اس کی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

Leave a Reply