رحیم یار خان میں مدرسہ کے استاد کی بچوں سے زیادتی، قصور وار کون ؟تحریر: محمد راشد عمران

بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں, بالخصوص درسگاہوں میں اور مدرس کی جانب سے یہ واقعات مسلسل رپورٹ ہو رہے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ ہم نے بحثیت والدین اپنی آنکھیں مکمل بند کر رکھی ہیں۔ ایسے واقعات کا تسلسل ہمارے معاشرتی نظام پہ بہت بڑا سوال ہے۔ ہم سب جان کر بھی انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا تعلیم و تربیت کا نظام بہت اعلی ہے۔ خدارا بچوں کو ایک خاص عمر سے پہلے بورڈنگ میں نہ ڈالیں۔ جب بچہ اس قابل ہو جائے کہ کوئی اسے آسانی سے نقصان نہ پہنچا سکے تو وہی محفوظ عمر ہے۔

رحیم یار خان میں مبینہ طور پہ ایک مدرسے کے استاد نے 5 بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جن میں سے تین کی تصدیق ہو چکی ہے۔ DW ایک نیوز چینل ہے جسکی اردو ویب سائٹ پہ مدرسوں میں جنسی زیادتی کو ایک وبا قرار دیا ہے۔ اس سلسلے میں والدین کو بلخصوص دھیان دینا ہوگا کہ درس و تدریس کے لیئے کہیں بھیجنے سے پہلے تحقیق کر لیں کہ کہاں اور کس کے پاس بھیج رہے ہیں۔ اس شخص یا ادارے کے بارے میں مکمل واقفیت اور جانکاری کے بعد ہی بچوں کو روانہ کریں۔ یہ انتہائی تشویش ناک ہے کہ جن مدارس میں بچوں کو مزہبی تدریس اور اخلاقی تربیت کے لیئے بھیجا جاتا ہے وہی جگہ ان کے لیئے انتہائی غیر محفوظ بن جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: رحیم یار خان: مدرسے کے استاد کی 6 بچوں سے زیادتی

یہ تصور کرنا بھی محال ہے کہ استاد کی شکل میں جنسی درندے سے بچے کا سامنا ہو سکتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ جب بچہ پڑھنے کے لئے نہیں جارہا تو ہم وجہ جاننے کی بجائے زبردستی بھیجتے ہیں۔ وجہ جان لینا ضروری ہے ہوسکتا ہے کہ اسے استاد کی سزا سے خوف ہو یا پھر جنسی زیادتی کے ڈر کی وجہ سے وہ انکار کر رہا ہو۔ یاد رکھیں کہ انسانی معاشرے میں رہ کر بھی ہمیں اپنے بچوں کے بارے میں محتاط رہنا چاہییے،انکے میل جول پہ کڑی نظر رکھنی چاہیئے، اسی طرح جہاں وہ تدریس کے لیئے جاتے ہیں، اسکی معلومات بھی ہونی چاہیئے۔
نوٹ : ہم دوست ویب سائٹ اور اس کی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

Leave a Reply