جج خدا تو نہیں! تحریر: مطیع الرحمان بھٹی

پاکستان کا عدالتی نظام تو کسی سے ڈھکا چھپا نہیں. اگر یہ کہا جائے کہ اس نظام میں ننانوے فیصد غلطیاں ہیں تو غلط نہیں ہوگا. پاکستان میں انصاف طاقتور کو ہی دیا جاتا ہے. غریب کے لئے الگ قانون اور امیر کے لئے الگ قانون. دیکھا یہ گیا ہے کہ جب کوئی نامور انسان جرم کا مرتکب ہوتا ہے اور عدالت میں پیش کیا جاتا ہے تو وہاں سب لوگوں کا رویہ الگ ہوتا ہے مگر جب کسی غریب کو معمولی جرم کرنے پر پیش کیا جاتا ہے تو پولیس سمیت ہر بندے کا رویہ الگ ہوتا ہے. یہاں غریب کے لئے الگ قانون امیر کے لئے الگ قانون ہے. تاریخ پر تاریخ کا واقعہ تو پرانا ہوا مگر حقائق سامنے ہوتے ہوئے بھی فیصلہ نہیں کیا جاتا.

اگر فیملی کورٹس کو ہی دیکھ لیا جائے تو وہاں زیادتیاں ججز کے سامنے ہوتی ہیں مگر پتھر کا بت بنے سب دیکھ رہے ہوتے ہیں کوئی انصاف فراہم نہیں کرتا. بچے ماں کے پاس ہیں تو باپ سارے اخراجات پورے کرنے کے باوجود ایک ملزم کی طرح دیکھا جاتا ہے. اسی عدالت میں آپکو ہزاروں ایسی کہانیاں ملیں گی جنہیں سن کر روح کانپ جاتی ہے. ماں نے اگر بچے کو پیدا کیا ہے تو باپ نے بھی نو مہینے اپنا خون پسینہ ایک کرکے اس بچے اور ماں کی تمام ضروریات مکمل کی ہیں یہ بات کوئی دھیان میں نہیں رکھتا. غرض انصاف نام کی کوئی چیز باقی نہیں رک گئی. اسی عدالت میں ایک شخص کو میں نے روتے ہوئے دیکھا تو پوچھا کیا مسئلہ ہے. اس نے جواب دیا کہ چار سال سے اپنے بچوں سے ملنے کو ترس رہا ہوں. باقاعدگی سے خرچہ دیتا ہوں مگر مجھے بچوں سے نہیں ملوایا جاتا. کئی ججز تبدیل ہوگئے مگر ہر نیاآنے والا جج کیس اسٹڈی کرنے میں چھ ماہ لگا دیتا ہے جب سمجھ آتی ہے اسے کیس کی تو تبدیل ہو جاتا ہے. اس بے بس کو میرے پاس جھوٹا دلاسہ دینے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا چنانچہ میں نے اسے دلاسہ دیا کہ فیصلہ تمہارے حق میں آئے گا. اس نے جو جواب دیا اسے سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے. اس کا کہنا تھا کہ ایک عدالت اور ہے جس میں میں ان تمام ججز کو کھڑا کروں گا. جج کو اللہ نے اختیار دیا مگر یہ نا انصافی کرتے ہیں. اب میرا معاملہ اس جج کی عدالت میں ہے جس نے فرعون جیسے کو اس لئے نہیں پکڑا تھا کہ وہ انصاف کرتا تھا.
انہوں نے جو انصافی کرنا ہے کرلیں مگر یہ بات رکھیں کہ جج ہیں خدا تو نہیں.
نوٹ : ہم دوست ویب سائٹ اور اس کی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

Leave a Reply