عام آدمی اور فلسفہ تحریر:ارشد نذیر بھٹہ

فلسفہ کو اگرنظریہِ حیات کے طور پر لیا جائے تو پھر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس دنیا میں ہر انسان کا کوئی نہ کوئی نظریہِ حیات یعنی فلسفہ ضرور ہوتا ہے۔ انسان اپنے اسی نظریہِ حیات کے تابع زندگی گزارتا ہے۔ آدمی خواہ پڑھا لکھا ہویا ان پڑھ وہ شعور کی منزلیں طے کرنے کے بعد زندگی گزارنے کے کوئی نہ کوئی اصول طے کرلیتا ہے۔ فلسفہِ حیات کے حوالے سے پڑھے لکھوں اوران پڑھوں کو مختلف طبقات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ مزے کی بات ہے کہ فلسفہِ حیات کے حوالے سے ان پڑھ ، جنہیں پڑھے لکھے جاہل اور گنوار خیال کرتے ہیں، اپنی شعوری عمر تک پہنچتے ہی زندگی کے کچھ زمینی حقائق کو سمجھ لیتے ہیں ۔ اپنی عملی اور مادی زندگی کے کچھ اصول طے کرلیتے ہیں۔ سماجی، سیاسی، مذہبی اورعلمی حوالوں سے ان کا انحصارایسے “دوسروں” پر ہوتا ہے جنہیں وہ “پڑھا لکھا” اور “عالم و فاضل” سمجھتے ہیں۔ ان کے موجودہ سماج اور ماحول میں انہیں جس قسم کے “پڑھے لکھے” (خواہ وہ روایتی ملا ہو، سکول، کالجز کے اساتذہ ہوں یا کوئی سماجی غیر رسمی حلقے) وہ انہی سے جتنا کچھ سمجھتے ہیں اُسی کو سچ مان لیتے ہیں اور انہی نظریات کے ذرئعے سے اپنی زندگی گزارتے ہیں۔ اُن کے پاس نہ اتنا وقت ہوتا ہے کہ وہ ایسے نظریات کے تضادات اور ان کی وجوہات تلاش کرتے پھریں۔ البتہ وہ ایسے نظریات کو “علما” یعنی “دوسروں” سے مستعار لئے ہوئے نظریات کہتے ہیں۔ اپنے ان نظریات کے حوالے سے وہ ضدی ہوسکتے ہیں لیکن ایسا ماننے میں کہ ان کے یہ خیالات “دوسروں” ہی سے مستعار لئے ہوئے ہیں وہ عموماً ضدی نہیں ہوتے۔ وہ اپنے ایسے نظریات کو “دوسروں” کے نظریات کہنے میں کوئی زیادہ باک بھی محسوس نہیں کرتے۔ اس کے برعکس عام پڑھے لکھے اس حوالے سے کچھ زیاد خود پسندی اور خود فریبی کا شکاررہتے ہیں۔ اُن کی یہ خود فریبی اورخود پسندی کچھ اس طرح کی ہوتی ہے کہ ان کا نظریہِ حیات بھی ان کا اپنا تخلیق کردہ نہیں ہوتا بلکہ مستعار لیا ہوا ہوتا ہے لیکن یہ اپنے اس مستعار لئے گئے نظرئے کو ساری عمر اپنا نظریہِ حیات سمجھ کر جیتے ہیں اور اسی خوش فہمی میں زندگی بسرکرتے رہتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی اپنے ایک نظریئے کے تحت گزار رہے ہیں۔ اپنے اس نظریئے کی بدولت وہ زیادہ اڑیل اور ضدی واقع ہوتے ہیں۔ پڑھے لکھوں کی دوسری قسم حد سے زیادہ مناقتوں پر مبنی ہوتی ہے۔ ایسے پڑھے لکھوں کا نظریہِ حیات صرف دنیوی اور مادی فائدہ حاصل کرنا ہوتا ہے اس لئے یہ کبھی کسی بھی نظریہ یا فکر کے ساتھ مخلص ہوتے ہی نہیں ہیں۔ انہیں صرف اپنے ذاتی مفادات عزیز ہوتے ہیں۔ جہاں ان کا ذاتی مفاد ہوگا وہاں یہ اپنے نظرئیے کو موقع محل کے مطابق ڈھال لیتے ہیں۔ “پڑھے لکھوں” کی تیسری قسم کو مزید دو اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک قسم ایسے “پڑھے لکھوں” کی ہوتی ہے جو ہوتے تو بہت ذہین و فطین ہیں۔ نکتہ آفرینی کا فن بھی جانتے ہیں لیکن اپنے ذاتی، شخصی یا گروہی مفادات کے لئے ہی اپنا سارا علم وہنر خرچ کرتے ہیں یا انہیں ایسا کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور وہ کسی نہ کسی بڑے نظریہ کے تحت ایسا کرنے پر آمادہ رہتے ہیں۔ یعنی ایسے لوگ اپنے استعمال ہونے کی بھی کوئی نہ کوئی قیمت وصولتے ہیں اور نظریات کی اس متنوع دنیا میں کسی نہ کسی طرح اور کسی نہ کسی نظریئے کے ساتھ جڑجاتے ہیں۔

اگر مختلف مکاتیبِ فکر اور نظریہ حیات کی کوئی کلاسیفیکیشن کی جائے تو سارے کے سارے نظرئیے دو بنیادی فلسفوں کے گرد گھومتے ہیں۔ عام الفاظ میں ایک کو “مثالیت پسندی کا فلسفہ” کہا جاسکتا ہے اور دوسرے کو “مادیت پسندی کا فلسفہ” کہا جاتا ہے۔

ایسے اذہان اپنی افتادِ طبع کا جائزہ لیتے ہوئے خود کو کسی نہ کسی نظریہ میں فٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ضروری نہیں ہوتا کہ ایسے افراد اپنے ان نظریات سے براہِ راست مستفید ہورہے ہوں۔ بس چند گنتی کے لوگ تو اپنے ان نظریات سے براہِ راست مادی اور دنیاوی استفادہ کرتے ہیں باقی باالواسطہ طورپر ان نظریات کو قبول کرلیتے ہیں۔ ایک قسم تو خود کو مادی نظریات کے ساتھ وابستہ کرلیتی ہے جبکہ دوسری قسم خود کو مثالیت پسندی یا عینیت پسندی جیسے نظریات سے جوڑ لیتی ہے۔

ایسے نظریات سے جڑت رکھنے والے افراد جو براہِ راست فائدہ حاصل کرتے ہیں وہ ایک مخصوص انداز میں استدلال گھڑتے ہیں جو ایسے نظریات سے باالواسطہ طور پر مستفید ہونے والوں کے لئے بھی ہوتا ہے اور ان پڑھوں کے لئے بھی۔ لہٰذا ایسے نظریات سے باالواسطہ طورپر مستفید ہونے والوں کو ایسے نظریات کی صداقت کی مشق کرائے جاتی ہے تاکہ وہ اس یقین کے ساتھ کہ وہ بھی زندگی میں کبھی نہ کبھی ان نظریات کے مادی اور دنیوی مفادات سے مستفید ہونے کے قابل ہوجائیں گے۔ یہ کام وہ بڑی چابکدستی سے کرتے ہیں اور ان کے ایسا کرنے یا کرائے جانے کے پیچھے ان نظریات سے فائدہ حاصل کرنے والے استحصالی ہوتے ہیں جن کے براہِ راست مفادات ایسے نظریات کے پیچھے چھپے ہوتے ہیں۔ ایسے نظریات کے پیچھے عموماً پیداواری قوتیں اور پیداواری عمل پر حاوی رہنے والے عناصر کار فرما رہتے ہیں۔ مثالیت پسندی کے ماننے والے اگرچہ زندگی گزارنے کے ان نظریات کا محرک کسی آفاقی اور ماورائی قوت کو خیال کرتے ہیں اور ان نظریات پریقین کے ساتھ ساتھ ایمان بھی رکھتے ہیں لیکن وہ عملی زندگی میں کبھی بھی پکے مثالیت پسند نہیں ہوتے کیونکہ مثالت پسندی “خالص مثالیت پسندی” ہوتی ہی نہیں ہے بلکہ مادی دنیا، دنیاوی ماحول اور مادی اشیا جن میں تغیر وتبدل رہتا ہے ان سے معاملہ کرتے ہوئے ان کے یہ ماورائی اور آفاقی نظریات ان کی رہنمائی نہیں کرسکتے۔ مثالیت پسندی کے نظریئے کے قائل ایسے افراد بھی عملی اور دنیوی زندگی میں مادیت پسندی کے مستعمل نظریات کے زیرِ اثر رہتے ہیں۔ مادیت پسندی والے ان کو بھرپور طریقے سے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں اور مثالیت پسندی کے پاس ایسا کوئی متبادل اور مدلل معاشی اور سماجی ڈھانچہ نہ ہونے کی وجہ سے ایسے نظریات کے متحمل مادیت پسندی اور بالخصوص بورژوا معاشی ڈھانچوں لبرلزم اور نیولبرلزم جیسے ذیلی نظریات کا آلہِ کار بن کر رہ جاتے ہیں۔ اس طرح ایسے افراد کی یہ اقسام کسی نہ کسی طرح ان نظریات کو آگے بڑھانے کا کام کرتی ہے۔ ایسا ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے اور آج تک چلتا آرہا ہے۔ اس کے برعکس مادیت پسندی کا ایک مارکسی نظریہ بھی ہے جو بورژوا معیشت دانوں کے نکتہِ نظر سے مختلف پیداواری عمل کو انسانی ضروریات کے تابع بنانے کا خواں ہے ۔ اگرچہ دونوں نظرئیے ہوتے تو مادیت پسندی کے ہیں لیکن یہ ہیں ایک دوسرے سے متضاد۔ اس لئے کچھ افراد مارکسی نکتہِ نظر کے قائل ہوتے ہیں۔ مارکسی نکتہِ نظر کے ماننے والے افراد مادیت پسند ہی کہلاتے ہیں لیکن وہ بورژوائی معیشت اور سماجی ڈھانچے کے خلاف ہوتے ہیں۔ اس طرح مادیت پسندی کے ماننے والوں کی یہ مختلف اور واضح اقسام ہیں۔ ہمارے ہاں بھی ان دونوں اقسام کے ماننے والے پائے جاتے ہیں۔

تاہم سرمایہ داری اور بورژوائی معیشت کے ماننے والے لبرلز اور نیولبرلزکے نظریات کے متحمل افراد کو مغرب کی سیاسی تائید اور حمایت حاصل رہی ہے اور مغرب ایسے نظریات کی ترویج و اشاعت میں اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے۔

ایسے ہی نظریات کی ترویج اور اشاعت کے لئے مغرب نے برِصغیر میں اپنا تعلیمی نظام جو بعد ازاں پلک سکولز، مونٹسری سکولز اور دیگر انگریزی میڈیم سکولوں کی شکل میں سامنے آیا متعارف کرایا۔ اس نظامِ تعلیم کا مقصد ایسے نوجوان پیدا کرنا تھا جو ان کے نظریات کو اپنے سماج میں قابلِ قبول بنا سکیں۔ اس تعلیمی نظام کے بعد کی برصغیر کی تاریخ میں اس کے اثرات کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

آج بھی مغرب میں تعلیم پانے والے ہمارے نوجوان شعوری یا غیر شعوری طورپر مغرب ہی کے فلسفہ کی ترویج کرتے ہیں، انہیں نظریات کو قبول کرتے ہیں لیکن ان کو چیلنج کرنے اور اپنے ماحول اور جغرافیہ میں اپنے مخصوص نظریات پر کام کم ہی کرتے ہیں۔ ایسے تخلیق کا عمل خال خال ہی نظرآتا ہے۔ گنتی کے چند افراد ہوں گے جنہوں نے کوئی اپنا نظریہ تخلیق کیا ہو یا پھر اپنے ماحول کا باقاعدہ مطالعہ کرکے اس کے مطابق کوئی اپنا علاقائی نظریہ اپنے لوگوں کو دیا ہو۔ ایسے اذہان اپنے علم وفن کو انہی استحصالیوں کے ہاتھوں فروخت کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے اسی کو ہی اپنا سلسلہِ روزگار بھی بنا لیا ہوتا ہے اور اسی سے اپنی تسکینِ قلب اور خوشی بھی اکسیر کرتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگ خود نظریہ دان یا نظریہ ساز نہیں ہوتے۔ یہ دوسروں کے نظریات کے شارح ہوتے ہیں۔ ان کی تشریح اور توضیح پراکتفا کرتے ہیں۔ اغلب خیال تو یہی ہے کہ ایسے لوگوں کی ابتدائی اُٹھان تو فلسفیانہ ہوتی ہے۔ ان کی افتادِ طبع بھی کچھ اس قسم کی ہوتی ہے اور اپنی اس افتادِ طبع کے ہاتھوں مجبور یہ لوگ کسی نہ کسی مستعمل نظریئے کے تابع رہ کراس نظریہ کی عمر بڑھانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ کچھ عرصہ کے بعد یہ اپنے اس ہنر میں اس حد تک طاق ہوجاتے ہیں کہ پھر انہیں اپنے سکونِ قلب کےلئے بھی “فلسفہ فلسفہ کھیلنا” ہی زیادہ مزہ دیتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں وہ “آرم چیئر” یا “کیفیٹریا کے فلسفی” بن کر رہ جاتے ہیں اور عملی زندگی کی تلخیوں اور حقیقتوں کا خود سامنے کرسکتے ہیں اور نہ عامِ آدمی کی حقیقی مشکلات کو سمجھتے ہیں بلکہ بس اپنے زیرِ نظر فلسفے کی ترویج اور توثیق کا باعث بنتے ہیں۔ اس کی مثال تو ایسی ہے جیسے ہر محبت شروع تو جنسی خواہشات کے تحت ہو لیکن تحلیقیِ فن میں ڈھلتے ہوئے خود کو “عشق” کی شکل میں ڈھال لے۔ آرام دہ کرسی کے یہ فلسفی عام آدمی کی زندگی کی تلخیوں میں کمی لانے میں مثبت کے بجائے منفی کردار زیادہ ادا کرتے ہیں۔ انہیں یہ بھی پتا نہیں ہوتا کہ عام آدمی کے حقیقی مسائل ہیں کیا اور اگر وہ معمولات زندگی کو ایک مشینی طریقے سے چلتے ہیں تو وہ کونسے عوامل ہیں جنہون نے انہیں ایسا بنا دیا ہے۔ وہ “حقیقت کیا ہے؟”، “زندگی کیا ہے؟”، “سماجی انصاف کیا ہے؟”، “کیا حقیقت تک پہنچنا ممکن بھی ہے یا نہیں؟”، “کیا تجربہ حقیقی علم کہلانے کا مستحق ہے یا نہیں؟” جیسے فلسفیانہ سوالوں سے بالکل نابلد ہوتے ہیں۔ وہ تو روزمرہ زندگی کے مسائل کے حل کے لئے ایسے لوگوں کی طرف دیکھتے ہیں۔ اُن کی یہ بھی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ان کے روزگار، تعلیم، صحت، صفائی، اچھا ماحول اور رہائش جیسے مسائل کا کوئی مستقل اور پائیدار حل پیش کریں۔ وہ ان پڑھے لکھوں سے صرف یہی توقع رکھتے ہیں کہ یہ ان کے ان بنیادی مسائل کا مستقل اور پائیدار حل پیش کریں۔ ان کے لئے صرف وہ لوگ کارآمد ہیں جو ان کے ان مسائل کا حل پیش کریں۔ اس کے علاوہ انہیں کسی بھی فرد خواہ وہ پڑھے لکھوں میں جتنا بڑا “دانشور” یا “فلسفی” جانا و مانا جائے سے کوئی غرض نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ ان کو کوئی بڑا دانشور اور فلسفی ماننے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے تمام “فلسفی” اور “دانشور” سماج کے عام آدمی سے کٹے رہتے ہیں اور دنوں کے درمیان ایک فاصلہ رہتا ہے۔ ایسے “دانشور” اور “فلسفی” عام آدمی کے بارے میں یہ گلہ کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں کہ انہیں فلسفے کی ابجد کا بھی پتا نہیں ہے اور عام آدمی ایسے “دانشوروں” اور “فلسفیوں” کو کھاس ڈالنے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتا۔

اب ہم ایسے پڑھے لکھوں اورحقیقی معنوں میں سماج کے نئے نظریئے کے متلاشی لوگوں کی بات بھی کرلیتے ہیں۔ ایسے لوگ علم دوست ہوتے ہیں۔ ان کی افتادِ طبع اور تجسس انہیں نئی راہوں اور نئے نظریات کا متلاشی بنا دیتی ہے۔ وہ اس کائنات میں مادے اور شعور کی گتھیوں کو نہ صرف سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ شعور اور مادے کے درمیان موجود کشمکش اور تضادات کی وجوہات تلاش کرتے ہیں۔ ان کے زیرِ نظرپوری دنیا کی انسانیت بھی ہوتی ہےاوراپنے مخصوص سماج اور ماحول سے وابستگی بھی۔ وہ سماج کی تحتی لہروں میں بہنے والے حقیقی محرکات کو سمجھتے ہوئے سماج کو آگے کی طرف لے جانے کے خواہاں ہوتے ہیں۔ وہ اسی دنیا کو خوبصورت بنانے اور اس میں سماجی انصاف کے حقیقی فلسفے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ اپنے مخصوص ماحول میں اپنے سماج کی پرتوں کو جاننے کی سچی جستو کرتے ہیں۔ لیکن اپنے اس فکری سفر میں وہ عام آدمی سے قطعاً نہیں کٹتے۔ وہ ہرصورت عام آدمی، اس کے سماج کے ترقیاتی ارتقا میں حصے کو سمجھنے اور جاننے کے لئے اُس سے جڑے رہتے ہیں۔ وہ سماج میں ایسے استحصال زدہ طبقوں کی ایسی ذہن سازی کے پیچھے چھپے محرکات کا غیرجابندارانہ مطالعہ کرتے ہیں۔ وہ یہ بھی جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ مفادات میں لپٹے نظریات کس طرح سے محنت کشوں اور عام لوگوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں اور وہ کس طرح تضادات اور کشمکش پیدا ہوتی ہے۔ وہ کائناتی تغیر و تبدل پر بھی نظر رکھتے ہیں اور سماج میں ہونے والی تبدیلیوں کو بھی جانتے ہیں۔ جب سماج میں ایسے افراد کی تعداد بڑھنے لگے تو سماج میں “سٹیٹس کو” کو برقرار رکھنے والوں یا ماضی کی طرف دھکیلنے والوں اور ایسے افراد کے درمیان براہِ راست تضادات پیدا ہوتے ہیں۔ اسی کشمکش میں وہ عام آدمی اور محنت کشوں کی شعوری تربیت بھی کرنا شروع کردیتے ہیں۔ سماج کے بالائے ڈھانچے کے تضادات پیداواری عمل کی ترقی کی راہ کی رکاوٹ بنتے ہیں جو براہِ راست عام آدمی کی زندگی پر اپنے مضر اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ایسے علم دوست اور تحقیق و تجسس رکھنے والے افراد سماج کی ترقی وارتقا کے حقیقی ضامن ہوتے ہیں۔
نوٹ: ہم دوست ویب سائٹ اور اس کی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

Leave a Reply