بندیا رانا کے یو-این-ڈی-پی کے خلاف احتجاج کی وجہ کیا بنی؟تحریر: ثاقب لقمان قریشی

وطن عزیز میں انسانی حقوق کی بدترین صورتحال پر مجھ سے جب بھی سوال کیا جاتا ہے میں این-جی-اوز اور میڈیا کو اسکی بنیادی وجہ قرار دیتا ہوں۔ کیونکہ این-جی-اوز حکومت اور معاشرے کے درمیان پل کا کردار ادا کرتی ہیں۔ جبکہ میڈیا بڑا پلیٹ فارم ہونے کی وجہ سے خبروں، ٹاک شوز اور ڈراموں کے ذریعے آگہی عام کرسکتا ہے، حکومت کو کام کرنے پر مجبور کرسکتا ہے۔
این-جی-اوز کے کام نہ کرنے کی بنیادی وجہ مجھے انٹرنیشل ایجنسیز نظر آتی ہیں۔ میں نے ملک کے مختلف علاقوں کی کچھ جن این-جی-اوز کے صدور اور سوشل ورکرز کے انٹرویوز کیئے ہیں۔ میری تحقیق کے مطابق ذیادہ تر لوگ سوشل ورک کی طرف نیک مقصد کیلئے ہی آتے ہیں۔ لوگوں کی خدمت کرتے ہیں۔ پھر آہستہ آہستہ انھیں شہرت ملتی ہے۔ مختلف ایونٹس میں جانا شروع کرتے ہیں۔ پھر آہستہ آہستہ ان کی ملاقات انٹرنیشنل ایجنسیز سے ہوتی ہے۔ عالمی ایجنسیز انھیں پرکھنا شروع کرتی ہیں۔ پھر انھیں بین الاقوامی فنڈز ملتے ہیں اور پھر یہ کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ اب انکا کام فائیو سٹار ہوٹلوں میں ایونٹس منقعد کرانا، لمبی لمبی تقریریں کرنا، کاغذوں پر پراجیکٹ بنانا اور انہی کاغذوں پر ختم کرنا رہ جاتا ہے۔
فائیو سٹار ہوٹلوں کے کچھ ایونٹس “میں” اٹینڈ کر چکا ہوں۔ بڑا لش پش ماحول ہوتا ہے۔ این-جی-اوز کے ساتھ حکومت کے نمائندے، سول سوسائٹی سے امیر کبیر لوگ، اداکار اور میڈیا کے نمائندوں کو ان میٹنگز پر مدعو کیا جاتا ہے۔ تقاریر کے ساتھ ملٹی میڈیا پر سلائیڈرز بھی چلائی جاتی ہیں۔ پھر حاضرین کو بڑے بڑے چارٹ، فائلیں، نوٹ پیڈ وغیرہ جیسی چیزیں تھما دی جاتی ہیں اور مسائل کے حل پر رائے طلب کی جاتی ہے۔ پورا ڈرامہ انتہائی دلچسپ ہوتا ہے۔ عام انسان یہ محسوس کر رہا ہوتا ہے کہ شائد اب کوئی تبدیلی آنے والی ہے۔
عالمی ایجنسیاں اپنی لاڈلی این-جی-اوز کے نمائندوں کو غیر ملکی دورے کرواتی ہیں۔ انٹرنیشنل ایوارڈز دلواتی ہیں۔ اس طرح یہ این-جی-اوز انسانی حقوق کی نمائندہ تنظیمیں بن جاتی ہیں۔ نہ خود کام کرتیں ہیں اور نہ ہی کام کرنے والوں کو آگے آنے دیتیں ہیں۔
بندیا رانا جی-آئی-اے کے نام سے سندھ میں خواجہ سراؤں کی ایک تنظیم چلا رہی ہیں۔ ڈاکٹر سارہ گل، ڈاکٹرمعیز، فریحہ شہزادی اور بہت سے اعلٰی تعلیم یافتہ خواجہ سراء بندیا جی کی ٹیم کا حصہ ہیں۔
بندیا جی کی ٹیم چار سال سے کراچی شہر میں ایڈز کے موذی مرض پر گلوبل فنڈ کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ نو ماہ قبل “یو-این-ڈی-پی بھی اس پراجیکٹ کا حصہ بن گیا۔ پراجیکٹ بڑی کامیابی سے جاری و ساری تھا۔ اس پراجیکٹ میں کراچی شہر کے بائیس خواجہ سراء نوکری کر رہے تھے۔ خواجہ سراؤں نے بڑی محنت سے ایڈز کے پندرہ سو مریضوں کی نشاندہی کی۔ ان مریضوں کا علاج احسن طریقے سے جاری تھا۔ ایڈز کے مریضوں کی، علاج کے ساتھ کاؤنسلنگ بھی جاری تھی۔ نوکری کرنے والے خواجہ سراء پوری کمیونٹی کیلئے رول ماڈل بن چکے تھے۔ انھیں دیکھ کر خواجہ سراء تعلیم کی طرف راغب ہو رہے تھے کہ اچانک یو-این-ڈی-پی نے “جیا” کے ساتھ پراجیکٹ بند کر دیا۔ یو-این-ڈی-پی اس وقت پورے ملک میں سولہ تنظیموں کے ساتھ ایڈز پر کام کر رہا ہے۔ یو-این-ڈی-پی باقی تنظیمیوں کو فنڈز جاری رکھے ہوئے ہے صرف بندیا رانا کے ادارے کے فنڈز روکے گئے ہیں۔

       بندیا رانا احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے

این-جی-اوز کا کلچر کچھ بیان کر چکا ہوں۔ بندیا رانا کی ٹیم کو لگتا ہے کہ یو-این-ڈی-پی ایڈز کا یہ پراجیکٹ کراچی کی کسی اور تنظیم کو دینا چاہتی ہے جس کیلئے یہ سارا ڈرامہ رچایا گیا ہے۔
یو-این-ڈی-پی کے اس اقدام سے بائیس خواجہ سراء نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور ایڈز کے پندرہ سو مریضوں کا علاج رک گیا ہے۔ بندیا رانا اپنے ادارے سے پراجیکٹ چھننے کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ بندیا کے احتجاج کو مقامی اور انٹرنیشل میڈیا خوب کوریج دے رہا ہے۔
پاکستان کیلئے آنے والی عالمی امداد کا بڑا حصہ انٹرنیشنل ایجنسیز اپنی لمبی چوڑی تنخواہوں اور غیر ضروری اخراجات میں خرچ کر دیتی ہیں۔ باقی کی رقم لاڈلی این-جی-اوز کو تھما دی جاتی ہے۔ جسے ہوٹلوں میں میٹنگز اور سیمینارز میں خرچ کر دیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خصوصی افراد فری لانسنگ کو ذریعہ معاش بنا سکتے ہیں: ثاقب لقمان قریشی

بندیا رانا کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ انکی ٹیم باتوں سے ذیادہ کام پر یقین رکھتی ہے۔ شائد اسی وجہ سے عالمی ادارے نے ان سے پراجیکٹ واپس لے لیا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کیلئے آنے والی عالمی امداد کی کڑی نگرانی کی ضرورت ہے۔ یہ پیسہ کن این-جی-اوز کو مل رہا ہے۔ این-جی-اوز یہ پیسہ کس طرح استعمال کر رہی ہیں سارے عمل کا سخت آڈٹ ہونا چاہیئے۔ من پسند این-جی-اوز کو پراجیکٹ دینے کا عمل رکنا چاہیئے۔ یو-این-ڈی-پی کے نامناسب عمل سے کراچی شہر کے پندرہ سو ایڈز کے مریض رل رہے ہیں۔ اگر کسی کی جان چلی جاتی ہے تو اسکا ذمہ دار کون ہوگا؟

Leave a Reply