جی، ہم غلام ہیں: زینب یاسین

کیا ہم غلام ہیں؟ کیا ہم امریکہ کی غلامی کے لیے آزاد ہوئے؟ کیا ہم خودادر اور خودمختار قوم نہیں؟ کیا امریکہ ہمارا باپ ہے؟ کیا پاکستان کی کوئی عزت نہیں؟ پاکستان کیوں آزاد ہونے کے بعد بھی غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے ؟ ہمیں دوستی اور غلامی کا فرق کب سمجھ آئے گا؟ اور اس طرح کے ہزار آزاد سوال عمران خان نے حکومت سے جاتے ہی ہمارے غلام ذہنوں سے کیے۔

ہماری زندہ روح کے بےہوش ضمیر کو غنودگی کے عالم سے نکالنے والے آزاد سوالات کی تاثیر ہمارے سرد جسموں کو اس قدر گرم لگی کے ہم دھاڑے مار کر گھروں سے نکل آئے؟کیے جانے والے یہ تمام سوالات کا کلیدی نکتہ یہ تھا کہ ہم ایک خودار قوم ہیں۔

ان تمام سوالات کی چابی خوداری کے پاس تھی۔ میں نے خوداری کی چابی سے ذہن کے تالے کو کھولنے کے بہت کوشش کی لیکن یہ اس قدر آزاد لفظ تھا کہ میری سمجھ میں نہ سکا۔ علامہ اقبال کی نظموں سے مدد لی تو منزل تک پہنچنے کا راستہ اور پیچیدہ ہوتا گیا۔ خوداری اور غرور کے درمیان جو باریک سا فرق ہے وہ ہمیشہ چینی میں پانی کی طرح گھل جاتا تھا۔

سفر کے پیچیدہ موڑوں کو پار کرنے میں ایک دوست نے مدد کی، اور اس نے خودداری کو کچھ اس طرح بیان کیا،” خدداری میرے نزدیک نفسی آزادی کا نام ہے۔ فرد کی وہ مہارت ہے جس سے وہ اپنی زات اور معاشی معاملات میں آزادانہ فیصلہ کرنے کا اہل ہو، اپنی ایک جامع اور ٹھوس رائے رکھنے والا، نفسیاتی طور خدمختار ہو اور زمہ داری ( خواہ وہ کوئی بھی ہو) اسکا پاس کرنے والا ہو۔ ایسا فرد جس کی رائے اور نظریہ پختہ ہو جس نے زمہ داریاں متعین کر رکھی ہوں اور وہ سہل لفظوں میں بھٹکنے والا نہ ہو۔ ”

اگر خوداری یہ ہے تو ہماری خودداری پرسن ٹو پرسن vary کیوں کرتی ہے۔ کیا ہمارے اندر واقعی خوداری کا وہ خوبصورت اور منفرد پودا کھلا ہوا ہے؟ یا ہم روزے مرہ کے معمولات میں، اپنے سے اونچے ہاتھ والے انسان کے ذریعے، آسمان کی بلندیوں کو چھونے کے غرض سے ،اپنی ذات کا ، اپنی خودی کا ، اپنی خود مختاری کا اور عزت نفس کا قتل کرتے ہیں۔

خودداری کا جو نقلی لباس پہنایا جا رہا ہے ابھی تو ہم وہ پہننے کے اہل ہی نہیں ہوئے۔خودداری تک پہنچنے کے لیے تو خود کو پہچاننا ضروری ہے۔ اس کے لیے خود سے گفتگو کرنا ضروری ہے۔ اور خود سے گفتگو کرنے کے لیے اپنی خامیوں کو قبول کرنا ضروری ہے اور اُن خامیوں کے ساتھ خود سے محبت کرنا ضروری ہے۔

Leave a Reply