ہم گناہوں میں ڈوبے تھے اس لیے سیلاب آگیا:ضیاء خٹک

جب لوگ گناہوں میں ڈوب جاتے ہیں تو اللہ تعالی ان پر قدرتی آفات نازل فرماتا ہے۔ اللہ تعالی کا عذاب اتنا سخت ہوتا ہے جس کے سامنے پھر کوئی بھی تھم نہیں سکتا، سیلاب آنے کے بعد کچھ لوگوں کے یہ تصورات ہیں۔

اگر واقعی سیلاب اللہ تعالی کی طرف سے گناہ گاروں پر عذاب ہے تو اس شخص پر کیوں نہ آیا جو عدالت میں بیٹھ کر سب سے مقدس کتاب قرآن پر ہاتھ رکھ کر جھوٹے فیصلے دیتا ہے، یہ عذاب پولیس کے اس آفسر کو لپیٹ میں کیوں نہیں لیتا جو تھانے میں بیٹھ کر دوسروں کے ساتھ رشوت کا لین دین کرتا ہے، یہ عذاب وزیراعظم کی کرسی بہا کر کیوں نہیں لے جاتا جو منتخب تو ملک کے ترقی کے لئے کیا جاتا ہے۔ لیکن وہ ملک کے غریب عوام کے پیسوں سے اپنی تجوری بھرتا ہے۔ یہ عذاب اس شخص پر کیوں نہیں آتا جو چھوٹے عہدے پر ہو کر بھی بڑے کرپشن کے لئے منصوبے بناتا ہے۔

غریب کے پاس گناہ کرنے کے لیے اتنا کچھ ہوتا بھی نہیں، لیکن پھر بھی سیلاب اس کو بہا کر لے جاتا ہے۔ لیکن دوسری طرف وہ کرسی پر بیٹھا کرپٹ، ظالم، بےانصاف اور دوسروں کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے والا اسی ہی کرسی پر بیٹھا عیاشی کرنے میں مصروف رہتا ہے۔

مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ بحرین (سوات) روڈ پر پکوڑے بیچنے والا فرمان کتنا بڑا گناہ گار تھا جو اس کی چھوٹی سی دکان سیلاب کی نذر ہوئی، بلوچستان کے ابرار نظیر سے کتنے گناہ سرزد ہوئے ہوں گے جو سیلاب اس کے دو کمروں پر مشتمل گھر بہا کر لے گیا۔سندھ کے عمران لطیف کے کتنے گناہ ہوں گے جو پانی کے تیز بہاو میں امداد کے لیے ہیلی کاپٹر کے پیچھے بھاگتا دیکھا گیا۔جنوبی پنجاب کے کاشف بلوچ کتنا گناہوں میں ڈوبا ہوگا جو تین فٹ پانی میں چارپائی پر بیٹھ کر کسی غیبی مدد کے انتظار میں پایا گیا۔

میں سوچ رہا ہوں کہ یہ لوگ واقعی بہت گناہ گار ہوں گے اس لئے تو ان کے پاس سر چھپانے کے لیے چھت رہا اور نہ دکان، نہ تو ان کے پاس سونے کے لیے جگہ ہے اور نہ کھانے کے لیے چیزیں! اسلام آباد، لاہور، کراچی اور پشاور میں کرپشن کے بدلے اربوں کربوں کے مالکان اب بھی عیاشیوں میں مصروف ہیں۔لیکن گناہ گار وہی ہے جو ایک وقت کی روزی کے لیے در بدر بھٹک رہے ہیں۔

عذاب کے نام پر یہ سیاستدان اپنی نااہلی چھپاتے ہیں۔ کرسی پر بیٹھ کر یہ سیاستدان مزے لیتے ہیں لیکن جب کوئی قدرتی آفت آتی ہے تو اس کو پھر عذاب کا نام دیتے ہیں۔ مایوسی کی بات یہ ہے کہ ان کے ساتھ ہمارے بے شعور عوام مان بھی لیتے ہیں اور ذکر و اذکار پر لگ جاتے ہیں۔ یہ کوئی اللہ تعالی کا عذاب نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک موقع ہوتا ہے سوئے ہوئے لوگوں کو جگانے کا، لیکن پھر بھی کسی کا ذہن سیاستدانوں سے سوال کرنے کی طرف نہیں جاتا،دو سو ممالک میں سے زیادہ بارشوں میں پاکستان کا نمبر ایک سو پینتالیس ہے۔

لیکن پھر سب سے زیادہ تباہی پاکستان میں کیوں؟ کسی دوسرے ملک میں کیوں نہیں؟
اس سے صرف اور صرف سیاستدانوں کی نااہلی ثابت ہوتی ہیں باقی کچھ بھی نہیں، اس کے بعد اگر کوئی آپ کو یہ کہیں کہ اللہ تعالی کا عذاب ہے تو سمجھو کہ آپ کو بیوقوف بنایا جا رہا ہے۔

دو ہزار دس کے سیلاب سے ہم نے کچھ نہیں سیکھا اور مشکل ہے کہ آنے والے وقت میں اچھے کے لیے کچھ سوچیں! ہم گناہ گار نہیں بلکہ ہم لاشعور ہیں اور سوال لفظ سے ہمارا دور دور تک تعلق نہیں، اس لیے ہمارا یہ حال ہے۔

یہ سیلاب قدرتی آفت کے ساتھ ایک موقع بھی ہے کہ حکمرانوں سے پوچھیں کہ یہ سیلاب صرف پاکستان میں کیوں؟ اور ایسے لوگوں کو اسمبلی کے فلور تک پہنچائیں جو علاقے اور ملک کے لیے کچھ کرنے کی چاہ رکھتے ہوں۔

مجھے نہیں لگتا کہ کوئی پھر بھی سوال کرے گا۔ ہم لوگ سیاستدانوں کی طرف سے بیوقوف بنانے والی باتوں میں اٹکے رہیں گے اور خود کو گناہ گار سمجھتے رہیں گے۔

Leave a Reply