ترقی کی دوڑ اور ہمارا فرسودہ نظامِ تعلیم : نور فاطمہ

آپ لوگوں سے کہیں کہ یہ مسئلہ ہے، یہ پریشانی ہے، اس کا حل کریں اس پر بات کریں۔ وہ کہیں گے لیکن آب نے فلانی بات کا نہیں کہا اس پر بات نہیں کی۔ وہ کہیں نا کہیں آپ کی کمی آپ کی کوتاہی کو ڈھونڈنے میں لگے رہیں گے۔ انہیں کسی طرح صبر ہی نہیں آئے گا جب تک وہ آپ کی بات کو بے معنیٰ ثابت نہ کردیں۔

پہلے میں سمجھتی تھی کہ جب تک اپنے گھر میں آگ نہیں لگتی لوگوں کو تکلیف نہیں ہوتی اور وہ دوسروں کے انتہائی رویوں اور اقدامات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے اور انہیں درست ثابت کرنے کے در پے رہتے ہیں۔ لیکن اب تو بات یہ ہے کہ اپنے گھر میں آگ لگی ہوئی ہے اور اب بھی ہم اس بات کو سمجھنے کے لئے تیار نہیں۔ گھر جل رہا ہے ہر طرف سے شعلے اٹھ رہے ہیں لیکن کیونکہ ہمارا بدن سلامت ہے تو کوئی بات نہیں حضور۔

شدت پسندی، نفرت، حقارت، عدم برداشت، فرقہ پرستی، نیز کہ ہر طرح کی افریت سڑکوں پر بال کھولے پھر رہی ہے اور اربابِ اختیار تو کیا اس کا شکار لوگ بھی کچھ نہیں کر پارہے۔ چند لوگ ہیں جو مذہب، قومیت، فرقے اور جنس سے اٹھ کر منطق کی بنیاد پر بات کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کا مقدر یا تو ملک بدری ہے یا گولی، مال اور عزت کی امان کی تو بات ہی کجا جان بھی محفوظ نہیں۔

اس سب کے لئے ضروری ہے کہ ہر معاشرتی شعبے میں ہنگامی بنیادوں پر تبدیلیاں لائی جائیں۔ تعلیم و تربیت ہر معاشرے کے لئے ایسے ہی ضروری ہے جیسے زندہ رہنے کے لئے آکسیجن۔ اس بات پر جتنا واویلا کیا جائے وہ کم ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام ایک ایسا ڈھیر ہے جس سے کچھ بھی اچھا نکلنے کی امید نہیں رکھی جاسکتی۔ جب تک یہ ٹھیک نہیں ہوگا کوئی بھی ادارہ ٹھیک نہیں ہوسکے گا۔ ہمارے اخلاقیات میں تبدیلی آسکتی ہے نہ ہی ہم کسی ترقی یافتہ قوم کی فہرست میں جگہ بنا سکتے ہیں۔

بیشتر والدین کے لئے یہی کافی ہوتا ہے کہ ان کا بچہ اسکول جارہا ہے۔ کچھ لوگ اس بات پر ہی خوش ہیں کہ وہ اپنی کلا س میں پوزیشن لیتا ہے۔ لیکن کیا وہ یہ جانتے ہیں کہ ان کا بچہ جو کچھ پڑھ رہا ہے وہ اسے کس قابل بنائے گا؟ ہمارے بچوں کو جدید تعلیم کے نام پر اسکولوں میں کیا پڑھایا جا رہا ہے۔ اس کا اندازہ اس دور کے مصروف اور سادہ لوح والدین کو بالکل بھی نہیں ہے۔

دوسری جانب حالات متوسط طبقے کے بھی وہ ہی ہیں۔ والدین کی اکثریت یہاں بھی بچوں کی تعلیم پر خود توجہ دینے سے قاصر ہے۔ ٹیوشن سینٹرز اکیڈمیز کی بھرمار ہے بہت ہی کوئی قلیل تعداد ایسے والدین کی ہوگی جو اپنے بچوں کے سیلیبس پر نظر ڈالتے ہوں گے یا توجہ دیتے ہیں یا پھر وہ یہ سوچتے ہوں گے کہ ان کے بچے کو اسکول میں کیا پڑھایا جا رہا ہے۔

درمیانے طبقے کے اسکول کا نصاب کیا ہے۔ ان کی کتابوں کے موضوعات کیا ہیں۔ ان میں ایسا کیا لکھا ہے جسے پڑھ کر بچے کی اچھی ذہنی نشو نما اور بہترین کردار سازی ہوسکے۔ یہ سب باتیں سوچنا بہت ضروری ہے۔ آپ آج کسی باہر کی کتاب کو پاکستانی کتاب سے ملا کر دیکھ لیں آپ کو اندازہ ہوجائے گا۔ یہ صرف میرا خیال نہیں بلکہ عملی تجربہ کرنے کے بعد میں نے سیکھا ہے۔

پریشان ہیں تو صرف وہ والدین جنہیں آنے والے دور کی جدت اور تیزی سے بدلتے رجحانات کا اندازہ ہے۔ وہ ان کی تعلیم پر خاص انداز سے نظر رکھتے ہیں۔ یا وہ جو اپنے بچوں کے لئے اضافی جدوجہد کر رہے ہیں۔

آئے روز یکساں نظامِ تعلیم اور یکساں نصاب کا نعرہ لگانے والے کس حق سے یہ بات کر رہے ہیں؟ کیا انہیں لگتا ہے کہ ہمارا نظامِ تعلیم یا ہمیں پڑھائے جانے والا نصاب اس قابل ہے کہ وہ بچے کی علمی پیاس بڑھا سکتا ہے؟ کیا ہمارا نصاب آنے والےمعمار کو جدید دنیا کے لیئے تیار کرنے میں معاون ثابت ہوگا ؟ کیا اس نصاب کو پڑھ کر بچہ مستقبل کا سائنسدان بن سکے گا ؟ کیا اسے پڑھ کر وہ جدید ٹیکنالوجی کا موجد بننے کی اہلیت رکھتا ہے؟ یا پھر اس نصاب کو پڑھ کر وہ کل کو اپنا ہی کوئی کاروبار شروع کرسکے گا؟ اور کچھ نہیں تو کیا اسے کسی اچھے ادارے کا ہیڈ یا کسی اچھی پوزیشن پر ملازمت کرنے کے قابل بنانے میں یہ نصاب مدد گار ہے ؟

چند سوالات پر کسی بھی نصاب کو مکمل کرنے یا نظامِ تعلیم کو رائج کرنے سے قبل پوچھے جانے چاہیے:

۱۔ کیا مرتب کیا گیا نظامِ تعلیم ہمیں بنیادی طور پر ایک اچھا انسان بنانے میں مفید ہے ؟

۲۔ کیا یہ ہمیں ایک کارآمد فرد کے طور پر اس معاشرے کا حصہ بننے میں معاون ہیں؟

۳۔ کیا یہ ہمیں آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور مشین لررنگ کی دوڑ کا حصہ بنا سکتی ہے؟

۴۔ کیا ہمیں انسانی زندگی کو بہتر بنانے والے لوگوں کی صف میں کھڑا کر سکتا ہے؟

ایسے اور اس جیسے کئی سوال ہیں جو ہمیں خود سے اور یہاں موجود تعلیم کے ٹھیکیداروں سے پوچھنے کی ضرورت ہے۔

دکھ اور افسوس کی بات تو یہ ہے کہ پاکستانی نظامِ تعلیم سمیت ہمارے نصاب میں شامل مضامین میں کچھ بھی آج کے دور کے حساب سے نہیں۔ کچھ بھی ایسا نہیں جو آپ کو اس تیزی سے ترقی کرتی اور ستاروں پر کمند ڈالتی دنیا کی دوڑ میں شامل کر سکے اور بدقسمتی سے ایسا لگتا ہے کہ آنے والا وقت اس جانب ترقی کے بجائے ہمیں مزید پستی کی طرف لے جائے گا۔

Leave a Reply