میری ڈائری کا ورق: عافیہ رائے

بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی؛

پاکستان میں بڑے پیمانے پر سیلاب کی تباہ کاری اور پھر سیلاب زدگان کی اذیتوں کو دیکھ کر شاید ہی کوئی بشر ہو جسکا دل آٹھ آٹھ آنسو نہ رویا ہو ۔

بستیاں اجڑ گئیں، عالیشان عمارتیں زمین بوس ہو گئیں، ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں ہمارے بہن بھائی اپنے روزگار کھو بیٹھے، کتنی جانیں گئیں شاید اعداد و شمار کے بس کی بات نہیں

اس پر ستم ظریفی یہ کہ جو جانیں بچ گئیں وہ بیماریوں کے چنگل میں جکڑی گئیں، خواتین و مرد ذہنی خلفشار کا شکار ہیں کہ ان کو آگے کا کچھ پتہ نہیں کہ حالات و واقعات کی سختی کب تک برداشت کرنی پڑے گی!

اور کیسے نہ ان کے دل و دماغ میں اتار چڑھاو بپا ہو جبکہ ان کی تباہی اور زبوں حالی کا مسخر چند ناعاقبت اندیش طبقے کی طرف سے اڑایا گیا ہو، کوئی اور نہیں سیاست دانوں سےلے کر ارباب اختیار تک نے بہت سے مواقع پر ان لٹوں پٹوں کی دل آزاری کی، بلا سوچے سمجھے کی گفتگو حالانکہ یہ عوام انہی کےکردہ کو بھگت رہی ہے!

رہی سہی کسر ہمارے ملک کا فنوں لطیفہ کا طبقہ پوری کر رہا ہے، شوبز انڈسٹری میں جن کے دم سے شہرت اور سٹارڈم انجوائے کرتے ہیں اسی عوام کے اجڑ جانے پر اتنی بےحسی!!

گزشتہ دنوں ایک بہت بڑے نجی ٹیلی ویژن کے چینل نے اپنے ایوارڈز کی تقریب ایسے شان و شوکت سے منائی کہ شاید کوئی ذی ہوش یہ ہنگامہ آرائیاں کرتے سو مرتبہ سوچتا کہ ہمارا ملک اور ہماری عوام جو ہمیں شہرت کے آسمان پر ٹانکتی ہے وہ تو تباہ و برباد بیٹھے تک رہے ہیں کہ کون ان کی آزمائش میں سہارا دے اور آپ ان کو ناچ ناچ کر دکھا رہے ہیں اور بے تکے لباس پہن کر اور بےتکی ادائیں دکھا رہے۔

اور نعرہ بلند کیا کہ سیلاب زدگان کے ریلیف کیلئے رقم اکٹھی کی جائے گی اگر انسانی جذبات کا زرا سا بھی عنصر آپ میں موجود ہوتا تو اتنی مہنگی ترین تقریب منعقد کرنے پر جو اخراجات ہوئے اور فنکاروں نے اپنی تیاری پر اور بیش بہا مہنگے بے تکے لباس پر خرچ کئے وہ ہی سیلاب زدگان کے ریلیف کیلئے دیئے جاسکتے تھے،ناکہ آپ بیرون ملک جا کر اپنی عوام کی کسمپرسی اور اذیتوں کا تماشہ لگا رہے ہیں۔

جبکہ بیرون ملک سے فنکار آکر ان کی دلجوئی کر رہے ہیں ان کے مسائل سن رہے ہیں ان کی دھاڑس بن رہے ہیں، یہ انکی عوام دوست فہم ہے جو ان کو آپ سے منفرد بنا رہی ہے اور آپکی کم فہمی چیخ چیخ کر نوحہ کر رہی ہے کہ غم اور برے دن ناچ کر نہیں گلے لگا کر گزرتے ہیں ۔

Leave a Reply