میری ڈائری کا ورق: عافیہ رائے

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بر لانے والا

نبی آخری الزماں حضرت محمد مصطفٰی ﷺ کو رب العالمین نے رحمتہ العالمین بنا کر بھیجا، جس طرح وہ تمام عالم کا رب ہے ویسے ہی محمد ﷺ رحمت ہی رحمت ہیں سب عالم کیلئے مسلمانوں کا وہ دور جاہلیت جس میں عورت کے گرد زندگی کا گھیرا تنگ تو کیا اسکا جینا ایک اندھیر گھاٹی تھا۔

عورت محض ایک لونڈی تھی، معاشرے میں اس کا مقام، اس کے حقوق اور اس کی عزت نفس کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔اس کی سانسوں پر بھی مرد کا حق تھا چاہے تو چلتی رہنے دے اور چاہے تو پیدا ہوتے ہی زمین میں گاڑ دے اور اس جابرانہ اقدام میں کوئی اور نہیں بلکہ اس کے خاندان کے مرد ملوث تھے۔

اور پھر عورت کو جینے کا حق ملا محمد مصطفٰی ﷺ ، رحمتہ العالمین کی ذات اقدس کی نسبت سے جب آپ ﷺ نے فرمایا لوگو ڈرو اس وقت سے جب تمھارے سے تمھاری عورتوں کے حقوق کےمتعلق پوچھا جائے گا، جب عورت کی وراثت کے متعلق آپ ﷺ نے اللہ رب العزت کے احکام سنائے اور ان کے قتل کو قتل ناحق قرار دیا، تب جاکر عورت کو اپنی ذات کے ہونے کا احساس ہوا۔

یہ دور جاہلیت کا تھا جب لوگ اپنی کم علمی اور رب العالمین کے احکامات سے بے بہرہ تھے اور ایک یہ دور ہے دنیا ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے اور ترقی کی انتہا اونچائی کو چھو چکی ہے اور ہرطرف “وومن امپاورمنٹ “کے چرچے ہیں، بیش بہا عالمی تنظمیں خواتین کے حقوق علم اٹھائے ہوئے ہیں۔

مگر پھر بھی عورت کو سامنا ہے اسی زمانہ جاہلیت کا جب وہ انتہائی ترقی یافتہ دور میں بھی اپنی وراثت کا حق پانے کیلئے عدالت کے در کھٹکھٹاتی پھر رہی ہے، جہاں وہ بہت سے علاقوں میں اپنے بنیادی تعلیمی حق سے محروم ہے، جہاں اسے پابند کیا گیا ہے خاندان کے مردوں کی پسند کی زندگی جینےپر، اس دور میں بھی عورت پابند سلاسل ہے، باپ، بھائی اور شوہر کی پسند و ناپسند کی اونچی دیواروں کے بیچ اور جو عورت گھر سے باہر نکلتی ہے وہ معاشرے میں پھرتے انسانی درندوں سے بھڑتی
ہے۔

آئے دن دور جاہلیت کی طرح عورت زمیں میں گاڑ دی جاتی ہے کبھی باپ، کبھی بھائی اور کبھی شوہر کے ہاتھوں اور کبھی سماجی درندوں کے ہاتھوں اور پھر انھیں انصاف چاہئے ہوتا ہے کبھی ” جسٹس فار زینب ” معصوم بچیوں کو جنسی درندگی کا شکار بنانے والےوالوں کو سزا سنانے میں اتنا تاخر کیا جاتا ہے کہ اسی اثنا میں کتنی ہی معصوم کلیاں خاک میں روندی جاتی ہیں ،”جسٹس فار نور مقدم” لیکن نور مقدم کو انصاف دینے کیلئے نور مقدم ہی کی ججمنٹ شروع ہو جاتی ہے۔

اس کے کردار پرہی پہلا سوال اٹھا دیا جاتا ہے کہ وہ غیر اخلاقی تعلق میں تھی ،”جسٹس فار سارہ انعام”سارا کو انصاف کیوں مانگنا پڑا وہ تو شوہر کےتحفظ میں تھی، اس سےتو کوئی غیر اخلاقی حرکت سرزد نہیں ہوئی تھی، اس کو تو شوہر کی جاہلیت نے زمین میں گاڑا !!

اور نجانے کتنی ہی عورتیں دن رات زمیں میں گاڑیں جاتی ہیں جن کا انصاف بھی ان کی طرح تہہ خاک دب جاتا ہے اور جب انصاف کا ترازو تلتا بھی ہے تو اس میں عورت کیلئے انصاف پورا نہیں تولا جاتا!

آج بھی گلوبل ویلج میں بہت سے مقامات پر رحمتہ العالمین کے درس کی ضرورت ہے۔

Leave a Reply