میری ڈائری کا ورق: عافیہ رائے

اقبال کا فلسفہ خودی جو کہ اس دور بتاں کی اہم ترین ضرورت ہے۔
اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر قائم کی جانے والی اس اسلامی ریاست کی عوام کیلئے خودی کی پہچان اور اس پر عمل کر کے اپنے تشخص اور وقار کو قائم رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

اقبال رح کا خیال تھا کہ جب تک قومیں اپنی خودی پر قائم رہتی ہیں ان کا تشخص قائم رہتا ہے۔ ان کی بردباری داغ دار نہیں ہوتی اور ایسا ہی دیکھنے میں آیا پاکستان اسلامی دنیا کے نقشے پر ایک مضبوط اور خود دار ریاست کے طور پر ابھرا

جسے اپنے وسائل پر بھروسہ کر کے اپنا تشخص اور وقار نہ کہ سلامت رکھنا تھا بلکہ دنیا کو دکھانا تھا کہ خود دار قومیں کس طرزح اپنے اصول و ضوابط پر قائم رہ کر کامیابیوں کی اور پر چمکتی ہیں۔

لیکن اس مضبوط ریاست کو قائم کرنے والے چند خود دار حکمرانوں کے یکے بعد دیگرے اسے داغ مفارقت دینے کے عمل نے اور مفاد پرست عناصر کےسود و زیاں کے سودے نے اور خود داری کو گروی رکھنے کے اس عمل نے اس اسلامی ریاست کا غرور چھین لیا۔

اس کے تشخص کو اس قدر داغ دار کر دیا کہ ہم جگ ہنسائی کا سبب بننے لگےاب بھی اگر پاکستان کے حکمران اس خودی کےسبق کو آگے لے کر چلیں اور اپنی عوام کے اندر پیدا ہونے والی خودی کی چنگاری کو دیکھ سکیں اور وہم سود و زیاں سے نکل آئیں تو قبلہ درست کرنے میں چنداں دیری نہ لگے گی۔

یہ دور اپنےابرھیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہےجہاں لا الہ الا اللہ

Leave a Reply