آپ کیسے جیتیں گے؟ زینب یاسین

اس بار کہانی دور کہیں سے نہیں، بلکہ آپ اور میرے پاس سے شروع ہوتی ہے۔ اس کہانی کا مرکزی کردار ایک نہایت بدقسمت انسان تھا جو mutiple organ failure کا شکار ہوا اور اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔ جِسم کے ایک حصے نے دوسرے حصے سے بےوفائی کر کے زندگی کو شکست دے دی۔

نتیجتاً اُس کی روح خالق حقیقی سے جا ملی اور مردہ جسم قبر میں جلتا سڑتا رہ گیا۔ آپ کو پتا ہے ایسا کیوں ہوا؟ کیونکہ جِسم کے ایک نظام نے دوسرے نظام سے مقابلہ کرنے کے لیے اپنے ساتھی کو پیچھے چھوڑ دیا۔

ایک سسٹم کی ورکنگ تو زبردست ہوگئی پر دوسرا ناکام ہوکر فیل ہوگیا اور اُس ناکام ہوتے نظام نے اپنے سے جوڑے ہر اُس سسٹم کو تباہ کر دیا جو جسم کو بہترین حالت میں رکھنے کے لیے سعی کر رہا تھا پھر کیا ہونا تھا اس destructive competition نے جسم کو کامیابی سے محروم کر کی زندگی کو شکست دے دی۔اور وہ شخص اِس عارضی دنیا سے فنا ہوگیا۔

وہ انسان ہمارا معاشرہ تھا۔ اُس کے اندر موجود اعضاء ہم انسان تھے۔ اور multiple organ failure ہمارے معاشرے کی ناکامی تھا اور اُس کی بےشمار وجوہات میں سے ایک وجہ unhealthy competition تھا۔ جس کا مینآئیڈیا یہ ہے کہ میں نے ہر قیمت میں سب سے بہتر بننا ہے اور جیت کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔

اس تصور نے معاشرے کو مار دیا اور ایک دوسرے سے بے خبر زندہ لاشیں جیتنے کی کشمکش میں ہر حد سے گزر گئیں۔اس مقابلے میں ہر شخص جو ہمارے مقابل کھڑا ہے وہ ہمارا دشمن ہے۔دو انسان، ایک مقابلے میں دوست نہیں ہوتے۔

نفرت، عداوت اور حسد کی سیڑیوں پر قدم رکھ کر جیتنے والا انسان آج ونر ہے۔ میں اس کمپیٹیشن کی فاتح بننا چاہتی ہوں اور شاید میری عمر کا ہر بچہ۔ ہم ایک دوسرے کو کچل کر زندگی میں آگے بھڑنے کی خواہش میں دوسروں کے احساسات اور جذبات کا قتل کرنے کی کوشش میں معاشرے کے مفاد کو مار دیتے ہیں۔

ہمیں یہ بات سکھائی ہے کہ جو اپنے لیے پسند کرو وہی اپنے بھائی کے لیے۔ پر میری لیے یہ بات صرف جوتے اور کپڑوں کی حد تک ہے اُس کے علاوہ دوسرے کے لیے ویسے خیالات رکھنا جو میں اپنے لیے رکھتی ہوں میری وننگ سٹریٹجی کی خلاف ہے۔

جس دن معاشرے ہولیسک کنسیپٹ کے مطابق چلنا شروع ہو گیا ہم ایک کامیاب معاشرہ بن جاہیں گے ۔ اگر کچھوا خرگوش کو نہیں جگائے گا ، تو ایک طبقہ ہمیشہ سویا رہے گا۔ کچھوا تو جیت جائے گا اور معاشرہ ہار جائے گا۔

Leave a Reply