مسافر : محمد راشد بُھٹہ

نومبر کے ایام,دھوپ میں شعبہ ابلاغیات عامہ سے رخصت کے باعث ہاسٹل کے صحن میں کرسی پر براجمان اپنے خوابوں اور خیالوں کو سپردِ قلم کرنے کی کاوش میں مگن ہوں.کیونکہ خیالوں کی دیوی نہ جانے پھر کب مہربان ہوگی.خیال بھی اک مسافر کی مانند ہوتا ہےجو آج یہاں تو کل کسی اور کے قلب و ذہن میں ہوگا. ہمیں اس خیال کا خیال تک نہ ہوگا اور اک نیا خیال وارد ہوگا.

اس مسافر کی طرح موسم بھی ایک مسافر سا لگ رہا ہے جو شہرِ لاہور میں برق کی رفتار سے تبدیل ہو رہا ہے.ابھی کل تک تو گرمی کا سماں تھا اور دھوپ پر بیٹھنے سے جان نکلتی تھی.مگر اب ہے کہ کمرہ بسبب ٹھنڈ کاٹنے کو دوڑتا ہے اور سورج کی شعاعیں وسیلۂ زندگی نظر آتی ہیں.انہی ایام میں ہم نے دیکھا کہ گرمی کے بعد خزاں وارد ہوا اور اب پت جھڑ کی رت کا بھی ہے چل چلاؤ.یہ رُت بھی کمال ہے. جو ہر درخت کو برہنہ کردیتی ہے اور پتوں میں ملبوس اشجار کو عریاں کردیتی ہے.

خزاں تو ہر کسی کو اس کا مقام یاد دلاتا ہے کہ کچھ مستقل نہیں ہے اور ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں.یہ خزاں کے ہی دن انسان کو انجام کی یاد دلاتے ہیں کہ یہ رعنائی,یہ خوبصورتی, یہ نغمے, گیت,رونقیں,رشتے,لوگ,ساتھ,عقیدتیں,جفائیں, وفائیں سب کچھ ختم ہوجائے گامگر تم رہ جاؤ گے فقط تم. تمہارا کون ہے؟صرف تم کیونکہ درخت کی ٹہنیاں اپنی ہوا کرتی ہیں جبکہ پھل,پھول,پرندے اور لوگ تو ضروت اور مطلب کےلئے آتے ہیں اور رخصت ہو جایا کرتے ہیں.یہ پھل,پھول تو موسم کے ساتھ چلے جاتے ہیں مگر درخت کیوں ان کو اپنی پہچان اور طاقت تصور کرلیتا ہے.جبکہ ان سب نے چھوڑ جانا ہے,ترک کردینا ہے. اسی طر ح تم تنہا ہو تنہا.جنگل میں لاکھ درخت ہوں گے مگر خزاں میں ہر درخت یکتائی محسوس کرتا اور کوئی بھی پرسانِ حال نہیں ہوتا ہے.

اسی طرح انسان بھی تنہا ہے.وہ خود اپنی پہچان ہے.وہ اپنے آپ کو جواب دہ ہے.اس سے مخلص اپنی ذات کے سوا کوئی نہیں ہے. یہ لوگوں کا ساتھ وقتی اور ضرورت کا تقاضا ہے.اگر یہ مجبوری نہ ہوتی تو شاید سماج بھی وجود میں نہ آتا. انسان غاروں میں زندگی بسر کرتے.ہر کوئی اپنے حصے کا شکار کرتا.دوسروں کو اس کی طرف دیکھنے بھی نہ دیتا. مگر اس طرح سےزندگی نمو نہ پا سکتی تھی اور فنا کامقام جلد آجاتا. کائنات کا نظام جمود کا شکار ہو جاتا.حرکت جہان سے رخصت ہو جاتی.لہذا انسان کے ساتھ مختلف ناطے اور چیزیں وابستہ ہوگئیں.جیسے درخت سہاروں کو اپنا سب کچھ سمجھ بیٹھتا ہے اور موسمی پرندوں کو اپنی طاقت تصور کرنے لگتا ہے.

انسان بھی چند دنوں کے قائم رشتوں کو اپنا سب کچھ سمجھتا ہے. وہ بھول جاتا ہے یہ محبت,وفائیں کچھ نہیں ہے.یہ پانی کا بلبلہ ہے.یہ سراب ہے جو بھٹکے ہوئے مسافر کو نظر آتا ہے.جب خزاں آتا ہے تو وہ درختوں کو اس شعور سے آگاہ کر دیتا ہے ایسے ہی انسان کو بھی مشکلات میں حقیقت سے آگاہ ہوجانا چاہیے.

خزاں کے ساتھ جامعہ میں داخلے بھی ختم ہوگئے ہیں.نئے پتوں کی طرح اس دانش گاہ میں نئے چہروں کی آمد کا سلسلہ بھی شروع ہونے والا ہے. جبکہ پرانے پتوں کی طرح لوگ ہاسٹلوں سے کوچ کر رہے ہیں.ان کےلئے وہ نہر کے کنارے کھڑے ہو کر روشنیاں دیکھنا,ہاسٹل کی چھت پر چاند کو تکنا,کسی کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر چلنا,چند ہم نشینوں کے ساتھ خوش گپیاں لگانا,کھانے کے لئے دوڑ دھوپ کرنا,جامعہ کی سڑکوں پر مٹر گشت کرنا,بادلوں کا نظارہ اور ہاسٹل کے کسی صحن میں تنہا مسافر کی طرح بیٹھ کر سوچنے والی تمام یادیں اور حقیقیں اب ماضی بنتی جا رہی ہیں.

وہ سب کچھ خواب سا لگ رہا ہے.اب ایامِ ماضی لمحے نظر آ رہے ہیں.وہ جو سب کچھ اپنا تھا اب پرایا لگ رہا ہے.یقین بھی نہیں آرہا کہ کوئی واقف ہے.خود کو سب مسافر محسوس کر رہے ہیں. وہ مسافر جو بھول گئے کہ یہاں رکنا چند دنوں کے لیے ہے, آخر چھوڑ جانا ہے.اک نئی منزل کو روانہ ہونا ہے.

یہ مسافرجن خوابوں کی تکمیل کے لیے وارد ہوئے تھے ان کے لیے بھی فکر مند دکھائی دیتے ہیں اور پھر آنکھوں میں مستقبل کے نئے خواب لیے روانہ ہو رہے ہیں.یہ سوچتے ہوئے کہ اب نیا ٹھکانا ہماری اصل قیام گاہ ہے.جبکہ ایک بات وہ پھر فراموش کر چکے ہیں کہ وہ مسافر ہیں,انہوں نے سب کچھ چھوڑ جانا ہے.

یہ جانے والے تو اپنی جگہ,آج کل ہاسٹل میں ہو کا عالم طاری ہے. ہلکی سردی کے باعث لوگ کمروں میں خود کو قفل کیے ہوتے ہیں.کچھ گھروں کی یاترا کے لیے گئے ہوئے ہیں.جن کے لیے گھر بھی ایک سرائے سے بڑھ کر نہیں ہے.وہ بھی مسافر ہیں.وہ بھی لوٹ آئیں گے.

اور یہاں دن بھر لوگ بھاگتے دوڑتے نظر آتے ہیں.مستقبل مستقبل کی بازگشت سنائی دیتی ہے.خود کو یہاں کا بنانا چاہتے ہیں.جامعہ کو الوداع کہنے سے ڈرتے ہیں.اسی زمین پر اک نئی زندگی کی تلاش میں ہیں اور شہر لاہور کی رونقیں قائم دائم دیکھنا چاہتے ہیں.

اس سب کے باوجود ان پر ایک یادوں اور امیدوں کا بوجھ ہےجو اٹھانا بڑا کٹھن ہے.لیکن اسی میں یقین بھی پنہاں ہے جس کے لیے وہ غریب الوطنی پر مجبور ہیں.تلاشِ رزق کا مسئلہ بھی درپیش ہے.معاشرے میں قائم جھوٹے معیاروں پر پورے اترنے کے لیے تگ و دو کرنا بھی ہے.اپنی سوچ,خیال اور شوق کو ترک کرکے مادی ضرورتوں کی کھوج میں مگن رہنا ہے.کبھی کچھ مل جاتا ہے تو کبھی فقط آس ملتی ہے.کوئی بھی حیلۂ معاش نہیں اور آس بہت ہے.

حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ رزق تو اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے اور وہی دینے والا ہے.مگر ضروری تو نہیں کہ رزق صرف سکوں اور روٹی کا نام ہے.یہ تو اس مادی دور کی تعریف ہے.کیا ہر دور میں انساں کو بنگلے اور گاڑی کی ضرورت تھی؟ ہرگز نہیں.کیونکہ پیٹ بھرنا تو مسئلہ تھا.مگر گاڑی مکان کا کہاں مسئلہ تھا.یہ تو ہر معاشرے نے خود ترتیب دیے ہیں.اگر رزق کی صورت میں کسی کو ذہانت یا علم دے دیا ہے تو پھر! مگر اس معاشرے میں انسان کو مشین ہی سمجھا جاتا ہے اور اسی کا کا کام لیتے ہیں.

بہر کیف یہ جہان بھی تو مسافر خانہ ہے اور ہم مسافروں نے کوچ کر جانا ہےسب نے چلے جانا ہے.

Leave a Reply