ریاکاری اور اس کے نقصانات

ریاکاری اور اس کے نقصانات

’’ریاء‘‘ کے لغوی معنی ’’دکھاوے‘‘ کے ہیں ۔ ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رِضا کے علاوہ کسی اور اِرادے سے عبادت کرنا ، ریاکاری کہلاتا ہے ۔ ‘‘ گویا عبادت سے یہ غَرَض ہو کہ لوگ اس کی عبادت پر آگاہ ہوں تاکہ وہ لوگوں سے مال بٹور سکے یا لوگ اس کی تعریف کرتے رہیں ۔ لوگ اس کو نیک آدَمی سمجھیں اور اس کو عزّت وغیرہ دیں ۔
ریاکاری کرنے والوں کا ٹھکانہ جہنم ہے ۔ کیونکہ ریاکاری کو شرک کہا گیا ہے ۔
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ مَحبوبِ ربُّ العلمین ، خاتم النبیین ، صادق و امین صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ واصحابہ وبارک وَسَلَّم کے ارشاد کے مطابق قیامت کے دن اللہ رب العزت اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لئے ان پر(اپنی شان کے مطابق) تجلی فرمائے گا ۔ اس وقت ہر اُمت گھٹنوں کے بل کھڑی ہو گی ۔ سب سے پہلے جن لوگوں کو بلایا جائے گا ۔ ان میں ایک قرآن کریم کا حافظ ، دوسرا راہِ خدا میں مارا جانے والا شہید اور تیسرا مالدار ہو گا ۔

اللہ رب العزت حافظ سے ارشاد فرمائے گا ۔ کہ کیا میں نے تجھے اپنے رسول پر اُتارا ہوا کلام نہیں سکھایا تھا ؟ ‘‘ حافظ عرض کرے گا: ’’کیوں نہیں ۔ اے ربّ عزوجل ۔‘‘ اللہ ربّ العزت ارشاد فرمائے گا: ’’پھر تُو نے اپنے علم پر کس قدر عمل کیا ؟‘‘ حافظ عرض کرے گا : ’’یاربّ ! میں دن رات اس کلام کو پڑھتا رہا ۔‘‘ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرمائے گا: ’’تو جھوٹا ہے ۔‘‘ اسی طرح فرشتے بھی اس سے کہیں گے کہ ’’تو جھوٹا ہے۔‘‘ پھر اللہ رب العزت اس سے ارشاد فرمائے گا: ’’تیرا مقصد تو یہ تھا کہ لوگ تیرے بارے میں یہ کہیں کہ فلاں شخص قاری قرآن ہے اور وہ تجھے دنیا میں کہہ لیا گیا ہے ۔‘‘

اس کے بعد مالدار کو لایا جائے گا تو اللہ رب العزت مالدار سے ارشاد فرمائے گا: ’’کیا میں نے تجھ پر اپنی نعمتوں کو اتنا وسیع نہیں کیا کہ تجھے کسی کا محتا ج نہ ہونے دیا ؟‘‘ وہ عرض کرے گا: ’’کیوں نہیں ،اے ربّ العالمین۔‘‘ اللہ رب العزت ارشاد فرمائے گا: ’’تو نے میرے عطا کردہ مال کا کیا کیا؟‘‘ وہ عرض کرے گا اے اللہ ’’میں اس مال کے ذریعے صلہ رحمی کرتا تھا اور تیری راہ میں صدقہ کیا کرتا تھا ۔ ‘‘ اللہ رب العزت ارشاد فرمائے گا : ’’تو جھوٹا ہے ۔‘‘ اسی طرح فرشتے بھی اس مالدار سے کہیں گے کہ ’’تو جھوٹا ہے۔‘‘ پھر اللہ رب العزت اس سے ارشاد فرمائے گا
’’تیرا مقصد تو یہ تھا کہ لوگ تیرے بارے میں یہ کہیں کہ فلاں بہت سخی ہے ۔اور وہ تجھے دنیا میں کہہ لیا گیاتھا ۔ ‘

اس کے بعد راہِ اللہ عَزَّوَجَلَّ میں مارے جانے والے شہید کو لایا جائے گا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے ارشاد فرمائے گا : ’’تجھے کیوں قتل کیا گیا؟‘‘ وہ عرض کرے گا: ’’مجھے تیری راہ میں جہاد کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اور میں تیری راہ میں لڑتا رہا یہاں تک کہ اپنی جان تیری راہ میں دے دی۔‘‘اللہ رب العزت ارشاد فرمائے گا: ’’تو جھوٹا ہے ۔‘‘ اسی طرح فرشتے بھی اس شہید سے کہیں گے کہ ’’تو جھوٹا ہے۔‘‘ پھر اللہ ربّ العزت اس سے ارشاد فرمائے گا: ’’تیرامقصد تو یہ تھا کہ تیرے بارے میں کہا جائےکہ فلاں بہت بہادر ہے ۔ اور دنیا میں تجھے بہادر کہہ لیا گیا تھا ۔ ‘‘ پھر اللہ تعالیٰ کے محبوب دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ واصحابہ وبارک وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ : ’’اے ابو ہریرہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) ! یہ اللہ کی مخلوق کے وہ پہلے تین افراد ہیں . جن کے ساتھ قیامت کے دن جہنم کو بھڑکایا جائے گا ۔

یہ بھی پڑھیں
تکبر کے اسباب اور ان کا علاج

ریاکاری اور اس کے نقصانات” ایک تبصرہ

Leave a Reply