حضرت کعب بن زہیر

حضرت کعب بن زہیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت کعب بن زہیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسلام کے ابتدائی دور کے شاعر ہیں ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم بھی ہیں ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نبی کریم خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے بطور انعام چادر بھی عطا فرمائی تھی ۔

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد ماجد باپ کا نام زہیر تھا ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نسب نامہ کچھ یہ ہے حضرت کعب ، بن زہیر ، بن ابی سلمیٰ ، بن ریاح ابن قرط ، بن الحارث بن مازن ، بن خلاوة ، بن ثعلبہ بن ثور ، بن لاطم ، بن عثمان بن مزينہ المزنی۔

حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ دو بھائی تھے ۔ حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت بحیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ ان کے والد زہیر جاہلیت کے شعراء میں سے تھے ۔ اس لیے شاعری آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دونوں بھائیوں کو وراثت میں ملی تھی۔

ظہور اسلام کے بعد نبی کریم خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کا شہرہ سن کر دونوں کو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم سے ملنے اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی باتیں سننے کا شوق ہوا چنانچہ دونوں بھائی ملنے کے لیے مدینہ منورہ چلے گئے ۔ مقام ابرق الغراف پہنچ کر حضرت بحیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ تم بکریاں لیے ہوئے یہیں ٹھہرے رہو میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کے پاس جاکر سنتا ہوں کہ وہ کیا کہتے ہیں؟

چنانچہ حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو چھوڑ کر خود آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گے اور نبی کریم خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم سے متاثر ہو کر اسی وقت مشرف باسلام ہو گئے حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کے اسلام کی خبر ہوئی تو انہوں نے جوشِ انتقام میں نبی کریم خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم اورحضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں گستاخانہ اشعار کہہ دیئے ۔

نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے یہ اشعار سنے تو آپ نے اعلان کروا دیا کہ کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جہاں بھی ملے اس کا کام تمام کر دیں ۔ حضرت بحیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس اعلان سے بہت گھبرا گئے اور حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خط لکھ بھیجا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کر لو معافی مل جائے گی ۔

حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ خط ملتے ہی سیدھے مدینہ پہنچے اورمسجد نبوی شریف میں داخل ہو گئے اور نبی کریم خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کے سامنے پیش ہو کر اسلام قبول کر لیا ۔

یہ بھی پڑھیں
حضرت کعب بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت کعب بن زہیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ” ایک تبصرہ

Leave a Reply