حضرت عمران بن حصین

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کے جانثار صحابی ہیں ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت مشہور صحابی ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بہت سی احادیث روایت کی گئی ہیں ۔

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کنیت ابو نجید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قبیلہ بنو خزاعہ کی ایک شاخ بنو کعب سے ہیں ۔ اسی لیے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ خزاعی اور کعبی کہلاتے ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نسب نامہ کچھ یوں ہے ۔ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عبید ؛ بن خلف ؛ بن عبدنہم ؛ ابن خدیفہ ؛ بن جھمہ ؛ بن غاضرہ ؛ بن جیشہ ؛ بن کعب ؛ بن عمرو؛ الکبعی۔

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ 7 ہجری میں جنگ خیبر کے سال حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ اسلام لائے ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی خلافت کے دوران ان کو اہل بصرہ کی تعلیم کے لیے مقرر کیا تھا۔

آپ رضی اللہ تعالیٰ اپنے وطن میں رہتے تھے لیکن ذوق جہاد میں غزوات کے موقع پر مدینہ منورہ پہنچ جایا کرتے تھے ۔ فتح مکہ میں حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمرکاب تھے اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قبیلے کا علم آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کے ہاتھ میں تھا ۔ اس کے بعد حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ غزوہ حنین اور غزوہ طائف میں بھی شریک ہوئے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سریہ میں بھی ان کے ہمراہ ہمراہ تھے۔

حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی ظاہری حیات تک آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ برابر مدینہ منورہ آتے جاتے رہے تھے ۔ لیکن نبی کریم خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کے وصال کا دل پر ایسا اثر ہوا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مدینہ آنا ہی چھوڑ دیا اور پھر گوشہ نشینی اختیار کر لی ۔ حضرت عمر رضی اللہ کے زمانہ میں جب بصرہ آباد ہوا تو مستقل طور پر یہاں منتقل ہو گئے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فقہ کی تعلیم کی ذمہ داری حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سپرد کی ۔

حضرت عمران رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے 52 ہجری میں بمقام بصرہ وصال فرمایا ۔ اللہ تعالیٰ کی حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر بیشمار رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں ۔ آمین

یہ بھی پڑھیں
حضرت عمرو بن ابی عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ” ایک تبصرہ

Leave a Reply