حضرت عمار بن یاسر

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہجرت

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حبشہ کی طرف ہجرت کے بارے میں اربابِ سیر میں اختلاف ہے ۔ بعض روایات کے مطابق آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دوسری ہجرت حبشہ میں شریک تھے ۔ مدینہ کی طرف ہجرت کا عام حکم ہوا تو حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اس سرزمین امن کی راہ لی اور مدینہ منورہ میں حضرت مبشر بن عبدالمنذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مہمان ہوئے ۔

نبی کریم خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے مدینہ منورہ میں حضرت حذیفہ بن الیمان انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھائی چارہ کرادیا اورمستقل سکونت کے لیے ایک قطعہ زمین بھی مرحمت فرما دی ۔

مدینہ منورہ کی ہجرت کے 6 ، 7 مہینوں کے بعد مسجدِ نبوی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی بنا ڈالی گئی تھی ۔ سرورِ کائنات صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے صحابہ کرام ؓ کو جوش دلانے کے لیے خود کام میں حصہ لیا تھا ۔ حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ اینٹ گارا لا لا کر دیتے تھے ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زبان پر یہ رجز جاری تھا

نحن المسلمون نبتنی المساجد ۔
ہم مسلمان ہیں ، ہم مساجد بناتے ہیں۔

حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ایک ایک اینٹ اٹھاتے تھے اور حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ دو دو اینٹیں اٹھاتے تھے ۔ ایک مرتبہ نبی کریم خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی طرف سے گذرے تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے نہایت شفقت کے ساتھ ان کے سر سے غبار صاف کیا اور فرمایا افسوس عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ !تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں
حضرت عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قبول اسلام

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہجرت” ایک تبصرہ

Leave a Reply