حضرت عتاب بن اسید

حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کے جانثار صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ۔

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نسب نامہ کچھ یوں ہے ۔ حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ابی العیص ؛ بن امیہ ، بن عبد شمس بن عبد مناف ؛ بن قصی بن کلاب بن ، مرة بن كعب بن لوی ؛ بن غالب بن فھر ، بن مالك بن النضر ؛ وھو قریش بن کنانہ ؛ بن خزیمۃ ، بن مدرکۃ بن الیاس ؛ بن مضر بن نزار ؛ بن معد ، بن عدنان ۔

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کنیت حضرت ابو عبد الرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابو محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے ۔

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ولادت 612ء میں مکہ مکرمہ میں ہوئی تھی ، اس وقت ابھی اسلام کی ابتدا تھی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فتح مکہ کے دن ایمان لائے تھے اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے مکہ کا والی مقرر فرمایا تھا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا روزینہ ایک درہم قرار پایا تھا ۔

حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سب سے پہلے شخص ہیں جنہوں نے اسلام میں امیر ہو کر حج کیا ہے ، اس سال مسلمانوں نے بھی حج ادا کیا تھا اور مشرکین نے بھی اپنے طریقہ پر حج کیا تھا ۔

بعض مؤرخین کے مطابق آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آخری زمانہ میں وفات پائی جب کہ واقدی کے مطابق حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وصال کے دن یعنی 642 عیسوی میں آپ نے مکہ مکرمہ میں وصال فرمایا اور مکہ ہی میں دفن ہوئے ۔ اس وقت آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر مبارک پچیس سال تھی ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بڑے صالح اور متقی تھے ۔

حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خطبہ

حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ” ایک تبصرہ

Leave a Reply