حضرت عبد اللہ بن عمرو

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابی اور راوی حدیث ہیں۔ حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عمرو بن العاص بن وائل سہمی قرشی نے سنہ 7 ہجری کے بعد اسلام قبول کیا اور مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے والد حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پہلے اسلام قبول کر لیا ۔ جو قریش کے سرداروں میں سے ایک تھے ۔ حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد حضرت عَمروْ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فقط 12 سال چھوٹے تھے ۔ قبول اسلام کے بعد حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کچھ غزوات میں شریک ہوئے۔

مؤرخین نے ان کی مختلف کنتیں لکھی ہیں جو یہ ہیں ۔ حضرت ابو محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت ابو عبد الرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابو نصیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ کہا جاتا ہے کہ جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے تو ان کا نام العاص رکھا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے تبدیل کر کے عبد اللہ رکھا۔

حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی ہجرت کے بعد انہوں نے ان سے کئی احادیث ایک صحیفے میں نقل کیں ۔ جسے انہوں نے «صحیفہ صادقہ» کا نام دیا تھا ۔ یہ سلسلہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیچ میں روک دیا مگر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کے حکم «لکھا کرو، قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، اس سے حق بات کے سوا کچھ نہیں نکلتا ” کے بعد دوبارہ شروع کیا۔

حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قرآن کے قاری اور ماہر تھے ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تورات پڑھ سکتے تھے اور تورات کے عالم تھے۔

حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شام کی فتح میں حصہ لیا اور جنگ یرموک میں اپنے والد کے ہمراہ بھی دیکھے گئے ۔

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کی جگہ اور تاریخ کے متعلق مختلف روایات ہیں ۔

حضرت عبیدہ بن الحارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ” ایک تبصرہ

Leave a Reply