حضرت عبداللہ بن عمر

حضرت عبداللہ بن عمر اور عشق نبی ﷺ

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب نبی کریم خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کا ذکر مبارک کرتے تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آنکھیں آنسوؤں سے ڈبڈبا جاتیں اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلتے ۔ منبرِ انور پر جس جگہ نبی اکرم خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم تشریف فرما ہوتے تھے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس جگہ پر ہاتھ رکھتے اور اپنے چہرے پر پھیر لیا کرتے تھے ۔

جن جگہوں پر نبی مکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے دورانِ سفر پڑاؤ کیا تھا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی وہاں پڑاؤ کرتے تھے ۔ جن مقامات پر حضور نبیّ رحمت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے نماز ادا فرمائی تھی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہر اس جگہ پر نماز ادا کیا کرتے تھے، جہاں نبی رحیم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے اپنی اونٹنی بٹھائی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان جگہوں پر اپنی اونٹنی بٹھایا کرتے تھے ۔

اپنی سواری کو ہر اس راستے پر موڑ لیا کرتے تھے جہاں سے نبی معظم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کا گزر ہوا کرتا تھا ، وجہ پوچھی جاتی تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے تھے کہ: میں چاہتا ہوں کہ پیارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی پیاری سواری کے کسی قدم مبارک (کی جگہ) پر میری سواری کا قدم پڑجائے۔ ایک بار نبی محترم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم ایک درخت کے نیچے اترے اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس درخت کی دیکھ بھال کرنے لگے اور اس کی جڑوں کو پانی دینے لگ گئے کہ کہیں یہ درخت خشک نہ ہوجائے۔

سفر سے واپسی پر پہلے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روضہ مبارکہ اور شیخین کریمین کی مبارک قبروں پر حاضری دیا کرتے تھے ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک جگہ سے گزر ہوا تو راستے سے کچھ ہٹ کر گزرنے لگے ، کسی نے وجہ پوچھی تو فرمایا : میں نے نبی پاک خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا تھا لہٰذا میں نے بھی وہی کچھ کیا ہے ۔

آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بغیر بال والے چمڑے کے جوتا پہنتے تھے ، وجہ پوچھی گئی تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کو بغیر بال والے چمڑے کا جوتا پہنے دیکھا ہے ، اس لئے مجھے یہ جوتے پہننا بہت پسند ہے۔ایک مرتبہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پاؤں سُن ہوگیا ، کسی نے کہا : جو آپ کو سب سے زیادہ محبوب ہے اس کو یاد کرکے پکارئیے ، اس سے سُن پَن ختم ہوجائے گا آپ نے فوراً کہا : یا محمداہ ، یہ کہتے ہی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پاؤں صحیح ہوگیا۔

حضرت عبداللہ بن عمر اور صدقہ و خیرات

Leave a Reply