گدھا سمجھدار تھا یا مرغا ؟

گدھا سمجھدار تھا یا مرغا ؟

گدھا سمجھدار تھا یا مرغا ؟

ایک کسان کا بڑا سا کھیت تھا ۔ اس کسان نے اپنے کھیت میں ہی ایک پیارا سا گھر بھی بنایا ہوا تھا ۔ اس کے پاس کئی قسم کے جانور تھے ۔ اس نے مرغیاں بھی پال رکھی تھیں ۔ اس کے علاوہ اس کے پاس بھینسیں اور بکریاں بھی موجود تھیں ۔ کسان کے پاس ایک انتہائی خوبصورت مرغا بھی تھا ۔ جس کے سر پر سرخ رنگ کا تاج بنا ہوا تھا ۔ مرغے کے پر بھی انتہائی خوبصورت تھے ۔ مرغے کو اپنی خوبصورتی پر بڑا ناز تھا اور وہ دوسروں کو ہمیشہ کمتر سمجھتا تھا ۔ اس لیے اس نے دوسرے جانوروں اور پرندوں سے دوستی رکھنا گوارا نہ کیا ۔ وہ سمجھتا تھا کہ جیسا میں خوبصورت ہوں میرے جیسا اس دنیا میں اور کوئی بھی نہیں ہے ۔

ایک دن اس کھیت کے قریب سے ایک لومڑی گزری ۔ لومڑی نے جب اتنا خوبصورت مرغا دیکھا تو لومڑی کے منہ میں پانی آگیا ۔ اس نے سوچا کہ میں مرغے کو کھا لیتی ہوں ۔ لیکن مرغا بھی سمجھدار تھا ۔ جیسے ہی اس نے لومڑی کو دیکھا تو وہ درخت کے اوپر بیٹھ گیا ۔ لومڑی انتہائی چالاک تھی ۔ اس نے مرغے کو اپنی باتوں میں لگانا چاہا ۔ لومڑی مرغے سے کہنے لگی اے مرغے میں نے تمہارے جیسا خوبصورت مرغا کبھی نہیں دیکھا ۔ مجھے تمہاری صبح کی اذان بہت اچھی لگتی ہے ۔ میں چاہتی ہوں کہ میں تم سے دوستی کر لوں اور تمہاری آواز میں اذان سنا کروں ۔

مرغا آہستہ آہستہ لومڑی کی باتوں میں آگیا ۔ مرغا درخت سے نیچے اتر آیا اور لومڑی کے ساتھ باتیں کرنے لگا ۔ مرغا اور لومڑی کی آپس میں دوستی ہوگئی ۔ لومڑی کچھ دن ایسے ہی مرغے کے پاس آتی رہی اور اس سے باتیں کر کے چلی جاتی ۔ ایک دن مرغا گفتگو کے دوران کچھ غافل ہوا تو لومڑی نے اسے اپنے منہ میں دبوچ لیا اور جنگل کی طرف بھاگ نکلی ۔ اب مرغے کو اپنی بے وقوفی کا احساس ہوا تو اس نے دوسرے جانوروں اور پرندوں کو اپنی مدد کے لیے پکارا ۔ مگر انہوں نے اس کی ایک نہ سنی ۔ اب مرغا سمجھ گیا کہ اسے اپنی زندگی بچانے کے لیے خود ہی کچھ کرنا پڑے گا ۔ مرغا لومڑی سے کہنے لگا لومڑی بہن تم مجھے منہ میں لے کر کب سے بھاگ رہی ہو ۔ تم تھک چکی ہوگی ۔

میں تمہیں کہانی سناتا ہوں ۔ اس سے تمہاری تھکاوٹ دور ہوجائے گی اور تم مجھے مزے سے کھا لینا ۔ مرغا کہنے لگا ایک ہرا بھرا جنگل ہوا کرتا تھا ۔ اچانک وہاں ایک گدھا آیا ۔ اس نے دیکھا کہ یہاں ہری ہری گھاس اور مزے کی ہوا ہے ۔ تو وہ اپنے مالک کو چھوڑ کر اسی جنگل میں رہنے لگا ۔ ایک دن گدھا گھاس کھا رہا تھا کہ وہاں ایک شیر آگیا ۔ شیر نے گدھے کو کھانا چاہا تو تو گدھا کہنے لگا! بادشاہ سلامت میں آپ کی خوشی میں خوش ہوں ۔ کیونکہ آپ بادشاہ اور میں رعایا ہوں ۔ میرے لیے سب سے اہم اپنے بادشاہ کی خوشی ہے ۔

شیر یہ سن کر خوش ہوگیا تو گدھے نے شیر سے کہا کہ آپ ایسا کریں کہ مجھے پیچھے سے کھانا شروع کریں ۔ میں آپ کو ایک کہانی سناتا ہوں تاکہ آپ مجھے کھاتے ہوئے تھکاوٹ کا شکار نہ ہوں ۔ شیر یہ سن کر بہت خوش ہوا ۔ وہ گدھے کے پیچھے پہنچ گیا تاکہ اسے کھانا شروع کرے ۔ گدھے نے جب شیر کو اپنے پیچھے کھڑے دیکھا تو اسے زور سے دولتی ماری ۔ اور خود اپنے مالک کے پاس بھاگ نکلا ۔ مرغا کہنے لگا ۔ لومڑی بہن اب تم ہی بتاؤ ۔شیر زیادہ عقلمند ہے یا گدھا ۔

لومڑی نے جب گدھے کی تعریف سنی تو اس سے رہا نہ گیا اور فوراً بول پڑی !مجھ سے زیادہ اس دنیا میں کوئی بھی عقلمند نہیں ہے ۔ جیسے ہی لومڑی بولی مرغا اس کے منہ سے چھوٹ گیا ۔ مرغا فورا اڑ کر ایک درخت کے اوپر بیٹھ گیا .اور لومڑی سے کہنے لگا ! لومڑی بہن اب بتاؤ کون زیادہ ذہین ہے ؟ شیر ، تم ، گدھا یا میں ۔ اس کے بعد مرغے نے اپنے غرور سے توبہ کر لی .اور تمام جانوروں اور پرندوں کے ساتھ مل جل کر رہنے لگا ۔

یہ بھی پڑھیں
کھجور کا باغ ، بادشاہ اور بوڑھا شخص

Leave a Reply