کیا آپ کا شوہر

کیا آپ کا شوہر جنگلی شیر سے بھی زیادہ خطرناک درندہ ہے ؟

کیا آپ کا شوہر جنگلی شیر سے بھی زیادہ خطرناک درندہ ہے ؟

ایک عورت پیر صاحب کے پاس گئی اور ان سے کہنے لگی کہ مجھے کوئی ایسا تعویذ دے دیجئے کہ میرا شوہر میرا فرمابردار ہوجائے ۔ میں اپنے شوہر سے جو بھی کہوں ۔وہ میری ہر بات ماننے لگ جائے ۔ پیر صاحب بہت دور اندیش اور دانا انسان تھے ۔ انہوں نے کہا ! میں آپ کے شوہر کے لئے ایک عمل کر دوں گا ۔ لیکن اس کے لیے آپ کو شیر کی گردن کا ایک بال لانا ہوگا ۔ یاد رہے کہ شیر کی گردن کا بال آپ نے خود اتار کر لانا ہے ۔ تب ہی اس عمل کا اثر ہوگا ۔ ورنہ یہ عمل الٹ بھی ہو سکتا ہے ۔وہ عورت بے حد پریشان ہوگئی اور مایوس ہو کر واپس آ گئی ۔

اس عورت نے واپس آکر اپنی سہیلیوں کو بتایا کہ میں نے پیر صاحب سے کہا تھا کہ مجھے کوئی تعویز دے دیں ۔ جس سے میرا شوہر میرا فرماں بردار ہوجائے تو پیر صاحب نے مجھے کہا ہے کہ شیر کی گردن کا ایک بال اتار کر مجھے ہی لے کر جانا ہے ۔ تب ہی یہ عمل ہوسکے گا ۔ لیکن میں ایسا نہیں کر سکتی کیونکہ شیر تو بہت خطرناک درندہ ہے ۔ وہ تو مجھے دیکھتے ہی کھا جائے گا ۔

اس عورت کی سہیلیوں نے اسے مشورہ دیا کہ تم ایسا کرو کہ روزانہ کچھ گوشت جنگل میں شیر کے پاس لے کر جایا کرو ۔ کچھ دن ادھر چپکے سے گوشت رکھ دینا ۔ شیر وہ گوشت کھائے گا اور چلا جایا کرے گا ۔ اس کے بعد پھر تم خود شیر کے سامنے جاکر اسے گوشت دینا تو وہ گوشت ہی کھائے گا تمہیں کچھ نہیں کہے گا ۔ اسی طرح کچھ دن عمل کرنا تو وہ شیر تم سے مانوس ہو جائے گا اور تم اس کی گردن کا ایک بال اکھیڑ کر لے آنا ۔

عورت کو اپنی سہیلیوں کی یہ بات بہت پسند آئی ۔ اس نے دوسرے ہی دن گوشت لیا اور جنگل میں رکھ دیا اور خود چھپ گئی ۔ شیر آیا اس نے گوشت کھایا اور چلا گیا ۔ کچھ دن بعد خاتون شیر کے سامنے چلی گئی اور پھر اسے گوشت دیا ۔ شیر نے خاتون کو کچھ نہ کہا اور گوشت کھا لیا ۔کچھ دن بعد عورت نے شیر کے قریب ہونا شروع کیا ۔ اب شیر بھی اسے کچھ نہ کہتا ۔ چپ چاپ گوشت کھاتا اور پھر چلا جاتا ۔

جب شیر مکمل طور پر خاتون سے مانوس ہو گیا تو خاتون نے شیر کی گردن پر ہاتھ پھیرنا شروع کیا اور اس نے شیر کی گردن سے ایک بال اکھیڑ لیا ۔ شیر نے اس خاتون کو کچھ نہ کہا ۔ خاتون خوشی خوشی گھر آئی اور اگلے ہی دن پیر بابا کے پاس پہنچ گئی ۔ پیر بابا کے پاس پہنچتے ہی خاتون نے کہا کہ باباجی میں یہ بال خود اتار کے لائی ہوں ۔ آپ جلدی جلدی عمل کریں تاکہ میرا شوہر میرا فرماں بردار ہو سکے ۔

پیر بابا نے خاتون سے پوچھا کہ آپ نے شیر کی گردن کا بال کیسے اتارا ؟ خاتون نے بابا جی کو ساری بات بتا دی ۔ پیر بابا خاتون کی بات سن کر ہنس پڑے ۔ پیر بابا خاتون سے کہنے لگے کہ کیا آپ کا شوہر جنگلی شیر سے بھی زیادہ خطرناک درندہ ہے ؟ اگر آپ بغیر تعویذ کروائے صرف اپنی کوشش سے شیر جیسے خطرناک درندے کو اپنا تابع فرمان کر سکتی ہیں ۔ اسے اپنے ساتھ مانوس کر سکتی ہیں تو پھر آپ کا شوہر تو ایک باشعور انسان ہے ۔ اگر آپ شیر جیسے درندے کو اپنی توجہ اور خدمت کے ذریعے اپنا تابع فرمان کر سکتی ہیں تو یقیناً آپ کا شوہر بھی آپ کی توجہ اور خدمت سے آپ کا ہو سکتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں
ایک بادشاہ اور مظلوم لڑکا

Leave a Reply