وہ بہت نیکوکار تھا

وہ بہت نیکوکار تھا مگر ۔۔۔۔۔

ایک شخص بہت عبادت گزار ، پرہیزگار اور نیکوکار معلوم ہوتا تھا۔ ایک دن وہ شخص اپنے بادشاہ کا مہمان بنا۔ وہ نیکوکار نظر آنے والا شخص جب کھانے کے لیے دسترخوان پر بیٹھا تو اس نے اپنی ضرورت سے کم کھایا اور جب وہ پرہیزگار نظر آنے والا شخص نماز کے لیے کھڑا ہوا تو اس نے عبادت میں عادت سے زیادہ وقت لگایا ۔ تاکہ لوگ اس کے متعلق یہ رائے قائم کر لیں کہ یہ بہت بڑا عابد ہے ۔ اور لوگوں کے دلوں میں اس کی عقیدت بڑھ جائے ۔

جب وہ پرہیزگار نظر آنے والا شخص دعوت سے اپنے گھر واپس آیا تو اس نے گھر والوں سے کھانا مانگا ۔ اُس شخص کے بیٹے نے جو بہت سمجھ دار تھا اپنے باپ سے کہا ۔ ابّا جان! کیا آپ بادشاہ کے دسترخوان پر کھانا کھا کر نہیں آئے ۔ تو پرہیزگار نظر آنے والے شخص نے کہا میں نے بادشاہ کے یہاں بہت تھوڑا سا کھانا کھایا تھا تاکہ بادشاہ اور اس کے دیگر درباریوں پر میری بزرگی کا اچھا اثر پڑے اور ان لوگوں کی مجھ سے عقیدت بڑھ جائے ۔

اس شخص کے بیٹے نے کہا۔ ابّا جان! ٹھیک ہے پھر آپ نماز بھی دوبارہ پڑھ لیں ۔ کیونکہ بادشاہ کے ساتھ آپ نے جو نماز پڑھی تھی ۔ وہ بس دکھاوے کی نماز تھی۔ اللہ کی رضا کے لیے نہیں تھی اور اللہ تعالیٰ کو آپ کی دکھاوے کی نماز کی ضرورت بھی نہیں تھی ۔

یہ بھی پڑھیں
کھجور کا باغ ، بادشاہ اور بوڑھا شخص

Leave a Reply