شر پوشیدہ ہے

تیرے سچ میں شر پوشیدہ ہے

ایک بادشاہ نے کسی گستاخی کی بنا پر ایک اجنبی شخص کو قتل کی سزا سنا دی ۔ وہ اجنبی شخص ، جب اسے موت اپنی آنکھوں کے سامنے نظر آنے لگی تو اس نے بادشاہ کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا اور بادشاہ کو گالیاں دینے لگا ۔ چونکہ بادشاہ کی زبان اور تھی اور اجنبی کی زبان اور تھی ۔ اس لیے بادشاہ نہ سمجھ سکا کہ وہ اجنبی کیا کہہ رہا ہے ۔ بادشاہ نے اپنے درباریوں سے پوچھا کہ یہ شخص کیا بول رہا ہے ۔ تو ایک نیک دل وزیر اٹھا اور اس نے کہا بادشاہ سلامت ! یہ شخص آپ کی تعریف کر رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ جو لوگ غصے کو پی جاتے ہیں ۔ اور جو لوگ دوسروں سے درگزر کرتے ہیں ۔ وہ انتہائی اچھے اور اعلی اخلاق کے مالک ہوتے ہیں ۔

بادشاہ نے جب یہ باتیں سنیں تو بادشاہ کے دل میں رحم آگیا اور اس نے اس اجنبی شخص کو معاف کر دیا ۔ ایک بدبخت وزیر بھی بادشاہ کے محل میں بیٹھا ہوا تھا ۔ اس وزیر نے کھڑے ہو کر کہا بادشاہ سلامت ! یہ شخص تو آپ کو گالیاں دے رہا ہے اور یہ وزیر جو کہہ رہا ہے کہ یہ شخص آپ کی تعریفیں کر رہا ہے ۔ دراصل یہ وزیر جھوٹ بول رہا ہے ۔ یہ وزیر کہنے لگا کہ ہمیں یہ زیب نہیں دیتا کہ ہم اپنے بادشاہ کے سامنے جھوٹ بولیں ۔

بادشاہ نے کہا کہ تو کس قدر بدبخت ہے کہ پہلے وزیر نے صرف ایک شخص کی جان بچانے کے لیے جھوٹ بولا ۔ اس کے جھوٹ میں بھی اچھائی پوشیدہ تھی ۔ جب کہ تو سچ بول رہا ہے اور تیرے سچ میں بھی برائی پوشیدہ ہے ۔ بادشاہ کہنے لگا کہ مجھے اس وزیر کا جھوٹ پسند آیا ہے کیونکہ اس جھوٹ میں اچھائی پوشیدہ ہے ۔ اور تیرے سچ کے سبب مجھے تجھ سے نفرت ہو رہی ہے ۔ کیونکہ تیرے سچ میں بھی شر پوشیدہ ہے ۔

یہ بھی پڑھیں
وزیر خزانہ نے بادشاہ کو مشورہ دیا کہ

Leave a Reply