رخصت ہو گیا ہے۔

وہ کل اس دنیا سے رخصت ہو گیا ہے۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بستی میں ایک امیر آدمی نے نیا مکان بنایا اور پھر اس مکان میں مستقل طور پر رہائش پذیر ہو گیا ۔ اس امیر آدمی کو کسی نے نہ تو کبھی کسی کی مدد کرتے دیکھا اور نہ ہی کسی مجبور کے کام آتے دیکھا ۔

اسی محلے میں کچھ ایسے دکاندار بھی تھے جو خود تو امیر نہیں تھے لیکن وہ مجبور و بے بس لوگوں کی مدد ضرور کیا کرتے تھے ۔اس بستی میں ایک قصائی بھی تھا جو اکثر غریبوں کو بے حد عمدہ اور مفت گوشت دے دیا کرتا تھا ۔

بستی میں ایک راشن والا بھی آباد تھا جو ہر مہینے بستی کے غریب گھرانوں کو ان کے گھر تک جا کر مفت راشن پہنچایا کرتا تھا ۔بستی میں ایک دودھ فروش تھا جو بچوں والے غریب گھروں میں مفت دودھ پہنچایا کرتا تھا۔

بستی کے لوگ مال دار شخص کو خوب برا بھلا کہا کرتے تھے کہ دیکھو اتنا مال ہونے کے باوجود بھی یہ شخص کسی کی مدد نہیں کرتا ۔ یہ دکان دار تو خود سارا دن محنت کرتے کر کماتے ہیں لیکن پھر بھی وہ غریبوں کا کس قدر خیال رکھتے ہیں.

کچھ عرصہ اسی طرح گذر گیا اور سب نے مال دار آدمی سے ناطہ ختم کر دیا ۔ جب اس مال دار آدمی کا انتقال ہو گیا تو محلے کا کوئی بھی آدمی اس کے جنازے میں شریک نہیں ہوا ۔

مال دار شخص کی موت کے اگلے دن ہی ایک ًغریب نے گوشت والے سے مفت گوشت مانگا تو گوشت والے نے گوشت دینے سے صاف انکار کردیا ۔راشن والے نے غریب اور مسکین لوگوں کو مفت راشن دینے سے صاف صاف انکار کردیا ۔

ان سب دکان داروں کا صرف ایک ہی جواب تھا کہ اب تمہیں یہاں سے کچھ بھی مفت نہیں ملے گا کیوں کہ وہ جو تم سب کے پیسے ادا کیا کرتا تھا وہ کل اس دنیا سے رخصت ہو گیا ہے۔

Leave a Reply