رشتے اس طرح جوڑے

رشتے اس طرح جوڑے جاتے تھے ۔

دین محمد کے بیٹے کی شادی تھی لیکن دین محمد کا بڑا بھائی اس سے کسی بات پر کچھ عرصے سے ناراض تھا ۔ بیٹے کی شادی قریب آئی تو دین محمد نے اپنے بڑے بھائی کو منانے کے لیے کوششیں شروع کر دیں.
یہ کیسے ممکن تھا کہ دین محمد کے بیٹے کی شادی ہو اور دین محمد کا بڑا بھائی اور دلہے کا تایا ہی شادی میں موجود نہ ہو ۔ کیوں کہ پہلے وقتوں میں اس بات کو بہت غلط سمجھا جاتا تھا کہ جس شخص سے اپنے سگے رشتے نہیں سنبھالے جاتے وہ نئے رشتے کیا خاک سنبھال پائے گا ۔

دین محمد اپنے بیٹے کو لے کر اپنے بڑے بھائی کے گھر پہنچ گیا اور اسے منانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن وہ اپنی کوشش میں کامیاب نہ ہو سکا ۔

اگلے دن ہی بارات لے کر لڑکی والوں کی طرف جانا تھا ۔ جب بڑا بھائی جانے کے لیے تیار نہ ہوا تو دین محمد نے اپنے بیٹے کو بڑے بھائی کے گھر کے باہر دیوار کے ساتھ بٹھا دیا اور بڑے بھائی سے یہ کہتے ہوئے واپس چلا گیا کہ صبح 11 بجے بارات کا وقت مقرر ہے اور آپ کے بنا میں بارات لے کر نہیں جا سکتا اور نہ ہی آپ کا بھتیجا آپ کے بغیر بارات لے کر جائے گا ۔ فیصلہ اب آپ کے ہاتھ میں ہے ۔

دین محمد کے چلے جانے کے بعد دلہے کا تایا بار بار گلی میں جھانک کر دیکھتا کہ شاید بھتیجا بھی چلا گیا ہو لیکن بھتیجا جوں کا توں وہیں موجود تھا ۔

رات کے 2 بجے گئے تو دلہے کے تایا نے اپنے کپڑے بدلے ، اپنا حقہ ہاتھ میں لیا اور گلی میں آ پہنچا. اس نے اپنے بھتیجے کا ہاتھ پکڑا اور کہا چل یار چلتے ہیں ۔ تیرا باپ تو ویسے ہی پاگل ہے ۔ تایا اور بھتیجا دونوں شادی والے گھر پہنچے تو سب نے ان کا استقبال کیا اور دین محمد نے پوچھا کہ بھائی جان آپ آگئے ؟
جواب ملا کہ کیسے نہیں آتا؟
لڑکی والے کیا سوچتے کہ دلہے کا تایا کیوں نہیں آیا اور ایسے خاندان کی بھی بدنامی ہوتی اور اوپر سے تم دلہے کو بھی تو گلی میں بٹھا کر چلے آئے تھے ، اب کیا بھتیجے کو ایسے ہی چھوڑ دیتا ۔

کبھی وہ وقت بھی تھے کہ رشتے اس طرح جوڑے جاتے تھے لیکن اب ۔۔۔۔۔ ؟ خیر چھوڑیں اب ہم ماڈرن لوگ ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں
رزق تو سخاوت میں پوشیدہ ہے

Leave a Reply