صرف کنواں بیچا ہے

میں نے پانی نہیں صرف کنواں بیچا ہے

ایک آدمی نے دوسرے آدمی کے ہاتھ اپنا کنواں فروخت کر دیا ، جب وہ آدمی کنویں سے پانی لینے کے لیے آیا تو اس شخص نے اس کو یہ کہہ کر پانی لینے سے روک دیا کہ’’ میں نے تمہیں کنواں بیچا ہے ، کنویں کا پانی نہیں بیچا ۔

اسی بات پر جھگڑا شروع ہو گیا ، جب جھگڑا بڑھ گیا تو کنویں کا خریدار قاضی شہر کے پاس اپنی فریاد لے کر پہنچا۔ قاضی نے مقدمہ کی روداد سن کر کہا کہ کنویں کا پرانا مالک صحیح بات کر رہا ہے۔ اس نے واقعی کنویں کا پانی نہیں بیچا۔ چنانچہ پرانے مالک کو عدالت کی طرف سے حکم دیا گیا کہ وہ 2 دن کے اندر اندر کنویں میں سے اپنا پانی نکال لے ، ورنہ دوسرے کے کنویں میں اپنا پانی رکھنے کا کرایہ اس کو دینا ہو گا۔

یہ سن کر کنویں کے سابق مالک کے تو ہو ش ہی اڑ گئے اور اس نے اسی وقت ہاتھ جوڑ کر کنویں کے نئے مالک اور عدالت دونوں سے معافی مانگی اور کنواں پانی سمیت نئے مالک کے سپرد کر دیا ۔

کنویں کا مینڈک مت بنیں

Leave a Reply