واپسی کے نشان

لیکن واپسی کے نشان مجھے نظر نہیں آ رہے ۔

کسی جنگل میں ایک شیر رہا کرتا تھا جو انتہائی بوڑھا ہو چکا تھا۔ شیر بہت کم شکار کے لیے اپنے ٹھکانے سے نکل پاتا تھا جب تھوڑا وقت اور گزر گیا تو شیر چلنے پھرنے سے تقریباً معذور ہو گیا۔ اس حالت میں بھوک سے جب شیر کا برا حال ہونے لگا تو اس نے اپنے غار کے آگے سے گزرنے والی ایک لومڑی سے مشورہ کیا۔ لومڑی نے شیر سے کہا کہ ” فکر نہ کرو، میں تمہارے پیٹ کی آگ بجھانے کا بندوبست کروں گی۔

یہ کہہ کر لومڑی وہاں سے چلی گئی اور اس نے اپنے وعدے کے مطابق پورے جنگل میں مشہور کر دیا کہ شیر بہت زیادہ بیمار ہو چکا ہے اور اس کے بچنے کی کوئی امید نہیں رہی ۔ لومڑی تو ایک چالاک جانور مشہور ہے۔ وہ جنگل کے کسی بھی جانور سے خوش نہ تھی اس کو سبھی برے لگتے تھے۔ اس لیے اس نے ایسا کیا تھا ۔

لومڑی سے یہ خبر سن کر جنگل کے تمام جانور اس بوڑھے اور معذور شیر کی عیادت کو آنے لگے۔ شیر غار میں سر جھکائے پڑا رہتا تھا لیکن لومڑی کے کہنے پر ہر روز ایک ایک کر کے عیادت کے لیے آنے والے جانوروں کو کسی نہ کسی طرح شکار کر کے اپنی بھوک مٹانے لگا تھا۔

ایک دن لومڑی نے خود بھی شیر کا حال احوال پوچھنے کے لیے اس کے غار کے دہانے پر کھڑے ہو کر شیر کو آواز دی۔ اتفاقاً اس دن شیر کے پاس کوئی جانور نہیں آیا تھا جس کی وجہ سے شیر بہت بھوکا تھا۔ اس نے لومڑی سے کہا کہ باہر کیوں کھڑی ہو ؟ اندر آؤ اور مجھے جنگل کا حال احوال سناؤ۔

لومڑی جو بے حد چالاک تھی ، اس نے شیر سے کہا ۔” نہیں میں اندر نہیں آ سکتی کیونکہ میں یہاں باہر سے آنے والے پنجوں کے نشان تو دیکھ رہی ہوں لیکن واپسی کے نشان مجھے نظر نہیں آ رہے ۔

بندر کی چالاکی ، شیر کو دھول چٹا کر بھاگ نکلا

Leave a Reply