انسان کا کردار

قد نہیں انسان کا کردار بڑا ہونا چاہیے

وہ پانی میں اپنا عکس مسلسل دیکھتا جا رہا تھا اور بار بار اپنے پنجوں کے بل کھڑا ہو کر اپنے قد کو لمبا کر کے دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔ چونکہ وہ ایک بونا تھا اور اس کا نام کامی تھا ۔ جنگل کے قریب ہی بونوں کی ایک بستی آباد تھی جس میں وہ رہتا تھا۔

کامی نہ جانے کیوں اپنے بونے قد کی وجہ سے پریشان رہتا تھا۔وہ خود کو قد آور دیکھنا چاہتا تھا جب کہ اس کے بزرگ اسے سمجھاتے تھے کہ قدرت نے جیسا بھی پیدا کیا ہے،اسی میں راضی رہنا سیکھو اور اس کی ناشکری کبھی نہ کرو ۔ مگر وہ خود کو بلند قد کا ہی دیکھنا چاہتا تھا اور یہی اس کی خواہش بھی تھی ۔

بستی کے قریب ہی جنگل کے اس پار ایک پہاڑی تھی۔اس بونے نے اپنے بڑوں سے سن رکھا تھا کہ پہاڑی کے دوسری طرف ان سے لمبے قد والے لوگوں کی بستی ہے۔وہ پہاڑی کے اس پار ان قد آور انسانوں کو دیکھنے کا خواہش مند تھا۔

ایک دن جنگل سے ایک ہاتھی بھٹکتا ہوا بونوں کی بستی میں آگیا۔

بونے اس کے پاؤں تلے دبنے کے خوف سے ادھر ادھر چھپنے لگے۔کامی بھی قریب ہی ایک پہاڑی پر چڑھ گیا اور کچھ ہی دیر کی جدوجہد کے بعد وہ پہاڑی کی چوٹی تک پہنچ گیا۔پھر اچانک اس کو خیال آیا کہ وہ پہاڑی پر تو چڑھ ہی گیا ہے،کیوں نہ پہاڑی کے دوسری جانب اُتر کر قد آور انسانوں کو ہی دیکھ لے۔

یہی سوچ کر وہ پہاڑی کے دوسری جانب اُترنے لگا۔نیچے ایک میدان میں بہت بڑا میلا سا لگا ہوا تھا۔ایک مداری لوگوں کو اپنے بندر اور بھالو کا کرتب دکھا رہا تھا،مگر لوگ بندر اور بھالو کے کرتب میں دل چسپی نہیں لے رہے تھے،چناں چہ مداری کی آمدنی کم ہو گئی تھی،اس لئے وہ بڑا فکر مند تھا۔

”لگتا ہے لوگ بندر اور بھالو کا ناچ دیکھ دیکھ کر اب اُکتا چکے ہیں۔اب مجھ کو کچھ اور نیا کرنا پڑے گا،تاکہ آمدنی میں اضافہ ہو سکے ۔“وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑایا۔

کامی آہستہ آہستہ پہاڑی سے نیچے اُتر رہا تھا کہ اس کو کچھ فاصلے پر لوگوں کا ہجوم نظر آیا۔ وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی سمت بڑھنے لگا۔اس نے وہاں بڑے قد والے لوگ دیکھے تو وہ اَش اَش کر اُٹھا۔جب کامی کی نظر بندر اور بھالو پڑی تو وہ ان کو دیکھنے کے لئے آگے بڑھنے لگا۔ مداری کی نظر اچانک پہاڑی کی سمت گئ تو اس نے دیکھا کہ ایک بونا اسی کی طرف آرہا ہے۔

کامی مداری کے قریب آیا تو مداری نے سوچا کہ کیوں نہ اس بونے کو پکڑ کر بندر اور بھالو کی طرح کرتب سکھائے جائیں اور پھر پیسے کمائے جائیں ۔ یہ سوچ کر اس نے ایک بوری لی اور فوراً کامی کے اوپر ڈال دی۔کامی اب مداری کی بوری میں قید ہو گیا تھا اور وہ اس کو اُٹھا کر اپنے گھر کی طرف چل پڑا۔

جب کہ کامی بوری میں بند اپنے ہاتھ پاؤں زور زور سے چلانے لگا۔گھر پہنچتے ہی مداری نے بوری کا منہ کھولا تو کامی بونا فوراً بوری سے باہر نکلا۔
مداری اس کو دیکھ کر خوشی سے مسکراتے ہوئے بولا:”اب مزہ آئے گا لوگوں کو تماشا دکھانے کا۔“
”کون ہو تم؟اور مجھے یہاں کیوں لے کر آئے ہو؟“کامی غصے سے بولا۔

”اب تم یہیں میرے پاس رہو گے ہمیشہ ۔ یہ بندر اور بھالو تمہارے نئے ساتھی ہیں۔“یہ کہتے ہوئے اس نے بندر اور بھالو کے پاس ہی کامی کو باندھ دیا اور پھر گھر سے باہر چلا گیا۔جب کہ کامی وہیں چیختا رہ گیا۔

”اب چیخنے اور چلانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ اب تم ہمیشہ ہماری طرح ہی اس مداری کے رحم و کرم پر رہو گے۔ “بندر کامی کو یوں چیختے ہوئے دیکھ کر بولا۔

”ارے اس کو ہماری بولی کیا سمجھ میں آئے گی،جو تم اس کو بتا رہے ہو۔“بھالو اپنے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے بولا۔

”نہیں،مجھے آپ لوگوں کی زبان سمجھ میں آتی ہے،جنگل کے قریب رہتے ہوئے ہم جانوروں کی بولیاں سمجھنے لگے ہے۔ “کامی بولا۔

”ارے واہ،پھر تو خوب گزرے گی جب مل بیٹھے گے مجبور تین۔“بندر نے قلابازی کھائی:”لیکن تم اپنی بستی کو چھوڑ کر یہاں کیوں آئے تھے ، جب کہ بونوں کی بستی تو الگ سے آباد ہے۔“

”دراصل میں نے اپنے بڑوں سے سن رکھا تھا کہ یہاں لمبے قد والے انسان رہتے ہیں۔ اور میں اپنے چھوٹے قد کی وجہ سے پریشان تھا۔بس ان ہی کو دیکھنے کے شوق میں یہاں تک پہنچ گیا ہوں ،مگر مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ لمبے قد والے لوگ اپنے مفاد کی خاطر بے بس انسانوں اور معصوم جانوروں پر زیادتیاں کرتے ہیں۔“
”میرے دوست چھوٹے قد سے کچھ نہیں ہوتا ہے۔ انسان کو کچھ ایسا کرنا چاہیے جس کی وجہ سے اس کا کردار بلند ہو سکے “بھالو نے کامی کو سمجھاتے ہوئے کہا۔

”مجھے اپنی بستی واپس جانا ہے،بس تم مجھے کسی طرح سے آزاد کرا دو ۔“کامی روہانسی آواز میں بولا۔

”یہاں سے نکلنا بے حد مشکل ہے،لیکن ناممکن تو نہیں۔ ایک طریقہ ہے یہاں سے نکلنے کا۔“بندر نے راز داری سے کہا۔ ”واہ وہ کیا!“کامی نے پوچھا۔

پھر بندر نے کامی کو بتانا شروع کیا،جسے سن کر کامی کی آنکھیں خوشی سے چمک اُٹھیں تھیں۔ رات گزر چکی تھی ، سورج طلوع ہو چکا تھا۔

مداری نے سب سے پہلے بونے کو عوام کے سامنے اپنا کردار ادا کرنے سے متعلق کچھ ہدایات سنائیں اور پھر اس بونے کی کمر میں رسی ڈال کر بندر اور بھالو کے ساتھ میلے کی طرف روانہ ہو گیا ۔وہاں پہنچ کر مداری نے لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لئے ڈگڈگی بجانا شروع کر دی ،لوگوں کی توجہ حاصل ہوئی تو مداری نے کہنا شروع کیا:”آج پہلی بار ہم آپ کو ایک بونے کا کرتب دکھائیں گے۔

پھر اس مداری نے کرتب دکھانا شروع کیا۔سب سے پہلے اس نے لوہے کا ایک حلقہ سا نکالا۔مداری اس حلقے کے کناروں پر آگ لگاتے ہوئے بولا:”سب سے پہلے بندر آپ کو اس آگ میں سے گزر کر دکھائے گا۔“اسی دوران بندر نے چپکے سے بونے کے ساتھ بندھی ہوئی رسی کو جلتی آگ سے لگایا،جس سے رسی جل کر ٹوٹ گئی۔
رسی کے ٹوٹتے ہی بونا فوراً وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا ۔ اس سے پہلے کہ مداری اس کو دوبارہ پکڑتا،بونا مداری کی پہنچ سے دور بھاگ گیا تھا۔بندر کا منصوبہ کامیاب ہو چکا تھا۔کامی آزاد ہو کر پہاڑی کی دوسری جانب اپنی بستی میں اُترنے میں کامیاب ہو چکا تھا۔

اس واقعے کو گزرے بہت دن ہو گئے تھے ، اب کامی کے خیالات بدل چکے تھے۔اب کامی اپنے قد کو کوسنے کے بجائے اپنی بستی کے لوگوں کی فلاح و بہبود کے کاموں میں لگ گیا تھا ۔ اب وہ اپنے عمل اور کردار سے قد آور بننا چاہتا تھا،کیوں کہ وہ سمجھ چکا تھا کہ انسان کے چھوٹے قد سے کچھ نہیں ہوتا بلکہ انسان کا کردار بلند ہونا چاہیے۔

ایک شخص نے حضرت عمر بن عبد العزیز کو برا بھلا کہا اور

Leave a Reply