جس نے تمہیں پناہ دی

تو نے اسی پر ظلم کیوں ڈھایا جس نے تمہیں پناہ دی

یہ اس زمانے کی بات ہے جب ابھی بندوق ایجاد نہیں ہوئی تھی اور لوگ تیر کمان سے شکار کھیلا کرتے تھے۔ایک دن کچھ شکاری شکار کی تلاش میں ایک جنگل میں پھر رہے تھے کہ اچانک ان شکاریوں کی نظر ایک ہرن پر پڑی ۔ وہ سب اس ہرن کے پیچھے ہو لیے۔

شکاری ہرن کو چاروں طرف سے گھیرنے کی کوشش کر رہے تھے اور ہرن اپنی جان بچانے کے لئے تیزی سے ادھر ادھر بھاگ رہا تھا۔جب وہ بھاگتے بھاگتے تھک گیا تو ایک گھنی انگور کی بیل کے اندر جا چھپا۔
شکاریوں نے اس کو بہت تلاش کیا،لیکن اس کا کچھ پتا نہیں چل سکا ۔ آخر شکاری مایوس ہو کر وہ وہاں سے لوٹنے لگے۔

جب کچھ وقت گزر گیا تو ہرن نے سوچا کہ شاید اب خطرہ ٹل گیا ہے اور وہ بے فکر ہو کر مزے سے اسی انگور کی بیل کے پتے کھانے میں مشغول ہو گیا،جس میں وہ چھپا ہوا تھا۔

ایک شکاری جو سب سے پیچھے تھا ، وہ جب وہاں سے گزرا تو انگور کی بیل اور اس کے گچھوں کو ہلتے ہوئے دیکھ کر سمجھ گیا کہ یہاں ضرور کوئی نہ کوئی جانور چھپا ہوا ہے۔

اس نے تاک کے کئی تیر مارے۔اتفاق سے ان میں سے ایک تیر ہرن کو جا لگا اور وہ وہیں پر ڈھیر ہو گیا۔مرتے ہوئے ہرن نے اپنے دل میں کہا کہ اے بدبخت!تیری نا شکری کی تجھے یہی سزا ہے ۔ مصیبت کے وقت جس نے تجھے پناہ دی تھی تو نے اسی پر ظلم ڈھانا شروع کر دیا۔”اتنے میں شکاری بھی ہرن کے پاس پہنچ گیا ، اس نے دیکھا کہ ہرن وہیں مرا پڑا ہے۔

قد نہیں انسان کا کردار بڑا ہونا چاہیے

Leave a Reply