اللہ والوں کی صحبت

اللہ والوں کی صحبت بھی اللہ والا بنا دیتی ہے

اللہ والوں کی صحبت بھی اللہ والا بنا دیتی ہے

بصرہ شہر میں ایک انتہائی حسین و جمیل عورت رہا کرتی تھی ۔ اس عورت کا نام شعوانہ تھا ۔

اللہ تعالی نے اسے بے شمار حسین و جمیل بنایا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ اسے انتہائی خوبصورت آواز سے بھی نوازا تھا ۔ کوئی محفل ایسی نہ ہوتی تھی ۔ جس میں شعوانہ کو نہ بلایا جاتا ۔ یہ عورت اپنے بد کردار کی وجہ سے بصرہ شہر میں بدکرداری کی ایک مثال سمجھی جاتی تھی ۔

یہ مہنگے لباس زیب تن کرتی ، ہر وقت زیورات سے آراستہ رہتی ۔ یہاں تک کہ اس نے جو کنیزیں رکھی ہوئی تھیں ۔ وہ بھی ترکی اور رومی تھیں ۔

ایک دن یہ اپنی کنیزوں کے ساتھ کہیں جا رہی تھی کہ راستے میں حضرت صالح المری رحمۃ اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے گھر کے قریب سے گزری ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ لوگوں کو توبہ کے فضائل بتا رہے تھے ۔ لوگ اپنے گناہوں کو یاد کر کے رو رہے تھے اور اللہ تعالی سے معافی مانگ رہے تھے ۔

شعوانہ ان کے گھر کے قریب سے گزری تو اسے آہ و بکا کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں ۔ یہ عورت سخت ناراض ہوئی کہ یہاں نوحہ کیا جا رہا ہے اور تعجب کی بات یہ ہے کہ مجھے کسی نے بلانا بھی گوارا نہیں کیا ۔

شعوانہ نے اپنی کنیزوں کو بھیجا کے دیکھ کے آؤ کون فوت ہوا ہے ۔ جس کی وجہ سے نوحہ کیا جا رہا ہے ۔ کنیز گئی اور وہ بھی حضرت صالح المری کا درس سننے بیٹھ گئی اور باہر نہ آئی ۔

یہ بھی پڑھیں
ایک عورت نے جب توبہ کی تو ……

اس نے پھر دوسری پھر تیسری کنیز کو بھیجا لیکن وہ بھی باہر نہ آئیں ۔ شعوانہ نے پھر چوتھی کنیز کو بھیجا ۔ اس نے باہر آ کر بتایا کہ وہاں لوگ اپنے گناہوں پر رو رہے ہیں اور اللہ تعالی سے معافی مانگ رہے ہیں ۔

شعوانہ یہ سن کر بہت ہنسی اور کہنے لگی کہ ابھی دیکھنا میں جا کر ان کا مذاق اڑا کر آتی ہوں ۔یہ سب کس کام میں لگے ہوئے ہیں ۔ اپنے گناہوں پر ایسے کون روتا ہے ۔ شعوانہ جب اندر گئی تو حضرت صالح المری کی آوازاس کو کانوں تک پہنچی تو اللہ تعالی نے اس عورت کی سوچ کو بدل دیا ۔ اسے اپنے گناہوں پر شرمندگی ہونے لگی ۔ یہ حضرت صالح کے پاس پہنچی اور ان سے کہا میری تو ساری زندگی گناہوں میں گزری ہے کیا اللہ تعالی میرے گناہ بھی معاف کر دے گا ۔

حضرت صالح رحمۃ اللہ علیہ نے کہا اللہ تعالی کے یہ سارے وعدے اور وعیدیں ، وعظ و نصیحت گناہگاروں کے لیے ہیں ۔ تاکہ یہ گناہ گار بندے اپنے گناہوں سے توبہ کرکے اللہ تعالی کے راستے پر آ جائیں ۔

شعوانہ کہنے لگی لیکن میرے گناہ تو ستاروں سے بھی زیادہ ہیں کیا مجھے بھی معافی مل جائے گی ۔ حضرت صالح نے کہا کہ اگر تیرے گناہ شعوانہ سے زیادہ ہوئے تو بھی تجھے معافی مل جائے گی ۔ یہ زار و قطار رونے لگی اور کہنے لگی کہ وہ شعوا نہ میں ہی ہوں ۔ جس کے گناہوں کی مثال ساری دنیا دیتی ہے۔

حضرت صالح نے فرمایا بے شک اللہ تعالی ہر گنہگار بندے کی توبہ قبول کرتا ہے ۔ شعوانہ نے اپنا حرام کی کمائی سے سے کمایا ہوا مال غریبوں اور یتیموں میں بانٹ دیا ۔ اپنے غلاموں کو آزاد کر دیا ۔ اور پھر دن رات اللہ کی عبادت میں مشغول ہو گئی ۔ اللہ تعالی سے رو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگنے لگی ۔ شعوانہ نے اپنی زندگی کی باقی چالیس سال اسی طرح اللہ تعالی کی بارگاہ میں توبہ کرتے ہوئے گزار دیے ۔

اسی لیے کہتے ہیں کہ نیک لوگوں کی صحبت بھی نیکوکار بناتی ہے ۔

Leave a Reply