سینکڑوں گواہ آگئے

وہ وقت جب ایک صحابی کے خلاف سینکڑوں گواہ آگئے

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے عہدِ خلافت میں حضرت مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بحرین کا گورنر بنایا تھا ۔ یہاں کی رعایا حضرت مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلاف تھی ۔ اُنہوں نے حضرت مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے شکایت کی ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو معزول کردیا ۔

معزولی کے بعد وہاں کے لوگوں نے حضرت مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بڑی چوٹ یہ لگائی کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آئندہ واپسی کے خطرہ کو روکنے کے لیے بحرین کے زمینداروں نے ایک لاکھ کی رقم جمع کرکے دربار خلافت میں پیش کی اور کہا کہ حضرت مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سرکاری محاصل سے خیانت کرکے ہمارے پاس یہ رقم جمع کرائی تھی ۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نہایت سختی سے باز پرس کی۔ یہ معاملہ بہت نازک تھا ۔ رقم موجود تھی ۔ سینکڑوں گواہ بھی موجود تھے ۔ اب کسی مزید ثبوت کی ضرورت نہ تھی ۔ لیکن حضرت مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دماغی توازن قائم رکھا ۔ اورنہایت اطمینان کے ساتھ کہا کہ میں نے دو لاکھ جمع کیے تھے ۔ ایک لاکھ اس شخص نے دبالیا ہے ۔ یہ سن کر زمیندار بہت گھبرا گیا اور اس زمیندار نے حلف لے کر اپنی صفائی پیش کی۔ ورنہ اس زمیندار کو دو لاکھ بیت المال میں جمع کرانا پڑنے تھے ۔

مگر یہ واقعہ چونکہ حضرت مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بدنام کرنے کے لیے تھا ۔ اس لیے تحقیقات سے یہ تمام بات غلط ثابت ہوئی ۔ بعد میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ سے پوچھا ۔ تم نے 2 لاکھ کا کیوں اقرار کیا تھا ۔ حضرت مغیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بولے انہوں نے مجھ پر تہمت لگائی تھی اور میرے پاس اس کے سوا بدلہ لینے کی کوئی صورت نہیں تھی ۔

یہ بھی پڑھیں
وہ لوگ جو کردار کی بلندیوں پر پہنچے

2 تبصرے “وہ وقت جب ایک صحابی کے خلاف سینکڑوں گواہ آگئے

Leave a Reply