جب قبر کی ایک اینٹ

جب قبر کی ایک اینٹ سرک گئی تو کیا ہوا ؟

حضرتِ ثابِت بُنانی رحمۃُ اللہ تعالیٰ علیہ اللہ تعالیٰ کے بہت بڑے والی ہیں ۔ آپ رحمۃُ اللہ تعالیٰ علیہ ہمیشہ دن کو روزہ رکھا کرتے تھے اور ساری رات عبادت میں مصروف رہا کرتے تھے ۔ آپ رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ جس مسجِد سے بھی گزرا کرتے تھے ۔ اس میں دو رَکعت تَحِیَّۃ المسجد ضرور پڑھا کرتے تھے۔

آپ رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں : میں نے جامِع مسجِد کے ہر سُتُون کے پاس قرآنِ پاک کا ختم کیا ہے اور بارگاہ ِ الٰہی میں گِریہ کیا ہوا ہے ۔ نَماز اور تلاوتِ قرآن پاک کے ساتھ آپ رحمۃُ اللہ تعالیٰ علیہ کو خُصوصی مَحبت تھی ۔ پھر آپ رحمۃُ اللہ تعالیٰ علیہ پر ایسا کرم ہوا کہ جس پر ہر مسلمان کو رشک آنا چاہیے چنانچہ وفات کے بعد دورانِ تدفین آپ کی قبر کی ایک اینٹ سَرَک کر اچانک اندر چلی گئی ۔

لوگ اینٹ اٹھانے کے لیئے نیچے جُھکے تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ آپ رحمۃُ اللہ تعالیٰ علیہ اپنی قَبْر میں کھڑے ہو کر نَماز پڑھ رہے تھے ۔ آپ رحمۃُ اللہ تعالیٰ علیہ کے گھر والوں سے جب اس بارے میں معلوم کیا گیا تو ان کی بیٹی نے بتایا کہ ابا جان رحمۃُ اللہ تعالیٰ علیہ روزانہ دُعا فرمایا کرتے تھے جس کا مفہوم ہے کہ : ’’یااللہ! اگرتُو کسی کو بھی وفات کے بعد قَبْر میں نَماز پڑھنے کی سعادت عطا فرمائے گا ۔ تو پھر مجھے بھی اس سے ضرور مُشرَّف فرما دینا ۔

‘‘ منقول ہے آج بھی جب بھی لوگ آپ رحمۃُ اللہ تعالیٰ علیہ کے مزار کے قریب سے گزرتے تو لوگوں کو قَبْرِ سے تِلاوتِ قرآن پاک کی آواز آرہی ہوتی ہے ۔(حلیۃ الاولیاء ، 2 / 362۔ 366 ملتقطا)

اللہ تعالیٰ کی تمام اولیاء کرام پر بیشمار رَحمتیں نازل ہوں اور اولیاء کے صَدقے اللہ تعالیٰ ہماری بھی مغفِرت فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الْاَمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم ۔

یہ بھی پڑھیں
وہ لوگ جو کردار کی بلندیوں پر پہنچے

Leave a Reply