عناق نامی خاتون

عناق نامی خاتون اور حضرت مرثد بن ابو مرثد رضی اللہ عنہ کا واقعہ

دور جاہلیت میں مکہ مکرمہ کی ایک عناق نامی طوائف سے حضرت مرثد بن ابو مرثد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تعلقات تھے ۔ تحریم زنا کے بعد آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس عورت سے قطع تعلق کر لیا ۔ حضرت مرثد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہایت قوی اور بہادر انسان تھے ۔ ا س لیے نبی کریم خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے قیدیوں کو مکہ سے مدینہ لے جانے کی خدمت ان ہی کے سپرد کی تھی ۔

اس سلسلہ میں ایک مرتبہ حضرت مرثد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مکہ جانے کا اتفاق ہوا ۔ چاندنی رات میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مکہ مکرمہ کی ایک گلی سے گزر رہے تھے ۔ اتفاق سے عناق کی نظر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر پڑ گئی ۔ اس نے آواز دی تو حضرت مرثد رضی اللہ تعالیٰ عنہ رک گئے ۔ اس نے اپنے مخصوص دلربائی کے انداز میں بڑی خندہ پیشانی سے حضرت مرثد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خوش آمدید کہا اور شب باشی کی خواہش کی تو حضرت مرثد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : اے عناق، اب اللہ نے زنا حرام کر دیا ہے ۔

عناق کو اس خشک جواب پر بے تحاشا غصہ آ گیا اور لوگوں سے کہہ کہ مرثد یہاں کے قیدی مدینہ منورہ لے جاتے ہیں ۔ چنانچہ 8 آدمیوں نے حضرت مرثد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تعاقب کیا لیکن یہ ایک محفوظ مقام پر چھپ گئے اور جب وہ لوگ تلاش کر کے ناکام واپس لوٹ گئے تو مدینہ منورہ تشریف لے گئے ۔ نبی کریم خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم !عناق سے میرا نکاح کروا دیجئے ۔

نبی کریم خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا اور اس بات کے بعد یہ حکم نازل ہوا جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے ۔ بدکردار مرد ، بدکار عورت یا مشرکہ سے نکاح کرے گا اور بدکردار عورت کو بدکار مرد یا مشرک کے سوا کوئی نکاح میں نہیں لائے گا اور ایمان والوں پر یہ حرام ہے ۔

یہ بھی پڑھیں
حضرت مرثد بن ابو مرثد رضی اللہ تعالیٰ عنہ

عناق نامی خاتون اور حضرت مرثد بن ابو مرثد رضی اللہ عنہ کا واقعہ” ایک تبصرہ

Leave a Reply