جب ایک شخص نے

جب ایک شخص نے سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو نامناسب الفاظ کہےتو

نبی کریم ، خاتم النبیین ، راحۃ العاشقین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی موجودگی میں کسی آدمی نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نامناسب الفاظ کہے ۔ جب اُس آدمی نے بہت زیادہ زِیادَتی شروع کی اور بہت زیادہ نامناسب الفاظ کہنا شروع کر دیئے تو حضرت سیدنا بوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اُس شخص کی بعض باتوں کا اس شخص کو جواب دے دیا (حالانکہ سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جوابی کاروائی گناہ سے بالکل پاک تھی کیو ں کہ زیادتی اور برا بھلا کہنے کی پہل اس شخص نے کی تھی مگر) حضورِ انور ، خاتم النبیین ، راحۃ العاشقین مراد المشتاقین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم وہاں سے اُٹھ کر چل گئے۔

سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی حضورِ اکرم ، خاتم النبیین، رحمۃ اللعالمین ، راحۃ العاشقین ، صاحب الجود والکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کے پیچھے پیچھے ان کے پاس پہنچ گئے اور نبی کریم خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم سے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم !وہ شخص مجھے نامناسب الفاظ کہتا رہا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم وہاں تشریف فرما رہے تھے لیکن جب میں نے اس کی باتوں کا جواب دینا شروع کیا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم وہاں سے اُٹھ کر آگئے ۔

تو نبی کریم خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے فرمایا جس کا مفہوم ہے : ’’تمہارے ساتھ ایک فرشتہ تھا جو اُس ( آدمی کی باتوں) کا جواب دے رہا تھا، پھر جب تم نے خود اس کی باتوں کا جواب دینا شروع کیا تو شیطان درمیان میں آ کُودا ۔ ‘‘ (مسند امام احمد بن حنبل ج۳ص۴۳۴حدیث۹۶۳۰)

یہ بھی پڑھیں
اللہ رب العزت کی عظمت اور معرفت کا حق

Leave a Reply