جنتی عورت نہ دکھاؤں ؟

کیا میں آپ کو ایک جنتی عورت نہ دکھاؤں ؟

حضرت سیدنا عطاء بن ابو رباح رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں جس کا مفہوم ہے کہ حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ: کیا میں آپ کو ایک جنتی عورت نہ دکھاؤں ؟ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کیا : کیوں نہیں ضرور دکھائیے۔ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک حبشی عورت کے متعلق فرمایا کہ جس کا مفہوم ہے کہ : یہ حبشی عورت جنتی ہے ۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اس نے ایک دن نبی کریم، خاتم النبیین ،راحۃ العاشقین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی خدمت میں حاضِر ہوکر عرض کیا تھا کہ : یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم مجھے مرگی کا مرض لاحق ہے ۔ جس کی وجہ سے میں گر جایا کرتی ہوں اور میرا پردہ بھی بعض دفعہ کھل جاتا ہے ۔ لہٰذا اللہ رب العالمین سے میرے لئے دعا کیجئے ۔

تو نبی کریم خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے فرمایا جس کا مفہوم کچھ یہ ہے کہ ’’ اگر تم چاہو تو اس پر صبرکر لو تو پھر تمہارے لئے جنّت ہے اور اگر تم چاہو تو میں اللہ رب العزت سے دُعا کروں کہ وہ تمہیں اس سے عافیت عنایت کر دے ۔ اس حبشی عورت نےعرض کیا کہ : یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم میں صبر کر لوں گی۔

پھر عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم (جب مرگی کا دورہ پڑتا ہے) تو اس وقت میرا پردہ بھی کھل جاتا ہے، آپ اللہ رب العالمین سے میرے لیے دعا کیجئے کہ میرا پردہ نہ کھلا کرے ۔ پھر نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے اس عورت کے لئے دعا فرمائی۔ (بُخاری ج۴ص۶حدیث ۵۶۵۲)

حضرتِ مفتی احمد یار خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مِرآت جلد2 صَفْحَہ427 پر لکھتے ہیں کہ : اُس مبارَک عورت کا نام حضرت سیدتنا سعیرہ یا سقیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہے ۔ یہ خاتون حضرت بی بی خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی کنگھی کرنے کی خدمت انجام دیا کرتیں تھیں ۔

یہ بھی پڑھیں
حضرت ابو جندل رضی اللہ عنہ

Leave a Reply