ایک چڑیا نبی کریم

ایک چڑیا نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں شکایت لے کر آگئی

ایک مرتبہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ ایک چڑیا کے گھونسلے سے اس کے بچے اٹھا کر لے آئے ۔ وہ چڑیا انتہائی پریشانی اور اداسی کے عالم میں ادھر ادھر چکر لگانے لگی اور شور مچانے لگی ۔ نبی کریم خاتم النبیین راحۃ العاشقین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کو جب اس بات کا علم ہوا تو آپ نے ان صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم فرمایا کہ وہ چڑیا کے بچوں کو واپس اس کے گھونسلے میں رکھ کر آئیں ۔

جانوروں کے ساتھ رحم دلی کے حوالے سے بھی ایک اور واقعہ بھی قابل ذکر ہے ۔ ایک دفعہ ایک عورت نے اپنی بلی کو باندھ کر رکھا ہوا تھا ۔ وہ بلی بے چاری بھوک اور پیاس کی شدت کے باعث مر گئی تو نبی کریم خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے اس عورت کے بارے فرمایا کہ جس کا مفہوم ہے کہ : وہ عورت جہنم میں جائے گی ۔

صحیح بخاری شریف میں بھی ایک حدیث موجود ہے کہ نبی کریم رحمۃ اللعالمین راحۃ العاشقین خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے جس کا مفہوم ہے کہ ؛ ایک مرتبہ ایک فاحشہ عورت صرف اس وجہ سے بخش دی گئی تھی کیوں کہ وہ عورت ایک کتے کے قریب سے گزر رہی تھی ۔کتا ایک کنویں کے قریب کھڑا پیاس کی وجہ سے ہانپے جا رہا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا گویا وہ کتا پیاس کی شدت سے ابھی کے ابھی مر جائے گا۔ اس عورت نے اپنا موزہ لیا اور اس موزے سے اپنا دوپٹہ باندھ کر کنویں سے پانی نکالا اور وہ پانی اس کتے کو پلا دیا ۔ اس عورت کی محض اس معمولی سے کام کی وجہ سے بخشش ہوگئی تھی کیوں کہ یہ انتہائی معمولی سا عمل اللہ تبارک و تعالیٰ کے نزدیک بہت بڑا اور قدر و منزلت والا عمل تھا ۔

یہ بھی پڑھیں
اللہ رب العزت کی عظمت اور معرفت کا حق

Leave a Reply