ایک شخص نے

ایک شخص نے حضرت عمر بن عبد العزیز کو برا بھلا کہا اور

حُجَّۃ الاسلام میں ہے کہ حضرت سیدنا امام محمد بن محمد بن ؛ محمد الغزالی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نقل فرماتے ہیں کہ : ایک مرتبہ کسی شخص نے (تابعی بزرگ) امیر المومنین حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے بہت سخت کلامی کی اور اس شخص نے حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو بہت برا بھلا کہا ۔

حضرت سیدنا عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنا سرجھکا لیا اور اس شخص سے فرمانے لگے کہ ’’کیا تم یہ چاہتے ہو کہ مجھے کسی طرح تم پر غصہ آجائے اور پھر شیطان لعین مجھے میری حکومت اور سلطنت کے غرور میں مبتلا کر دے اور پھر میں تم کو ظلم و ستم کا نشانہ بنا ڈالوں اور پھر قیامت کے دن تم مجھ سے اس ظلم و ستم کا بدلہ لے لو ، مجھ سے تو ایسا ہر گز نہیں ہوگا ۔ ‘‘

حضرت سیدنا عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس شخص سے یہ فرمایا اور پھر خاموش ہو گئے اور بدلے میں اس شخص کو برا بھلا تک نہ کہا ۔ (کیمیائے سعادت ج۲ص۵۹۷)

یہ بھی پڑھیں
وہ لوگ جو کردار کی بلندیوں پر پہنچے

3 تبصرے “ایک شخص نے حضرت عمر بن عبد العزیز کو برا بھلا کہا اور

Leave a Reply