ایمان افروز واقعہ

حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ عنہ کے قبولِ اسلام کا ایمان افروز واقعہ

غزوہ بدر کی شکست کی وجہ سے مشرکین مکہ کی آتش انتقام مزید تیز ہو گئی تھی اور وہ مسلمانوں سے بدلہ لینے کے لیے طرح طرح کے منصوبے سوچ رہے تھے ۔ ایک دن حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سرخیل مشرکین صفوان بن امیہ آپس میں بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے کہ صفوان نے کہا بدر کے مقتولین کے بعد زندگی بہت بے مزہ ہو گئی ۔

حضرت عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا یہ بالکل سچ ہے ۔ ہمارا تو لطف زندگی جاتا رہا ہے اگر مجھ پر قرض اور میرے اہل وعیال کی پرورش کا بوجھ نہ ہوتا تو میں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی جان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ۔ صفوان یہ سن کر بولا کہ یہ کون سی بہت بڑی بات ہے ۔ تمہارے قرض کی ادائیگی کی ذمہ میں لیتا ہوں اور جس طریقے سے میں اپنے اہل و عیال کی پرورش کر رہا ہوں اسی طرح تمہارے اہل و عیال کی پرورش بھی کرتا رہوں گا اور صفوان نے حضرت عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے ضروری سامان سفر بھی مہیا کر دیا ۔

اس سامان میں ایک سم آلود تلوار بھی تھی ۔ حضرت عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ ہدایت کر کے کہ ابھی کچھ دنوں میرے حالات پوشیدہ رکھنا مدینہ منورہ پہنچے اورمسجد نبوی شریف کے دروازہ پر سواری کھڑی کر کے تلوار لیے ہوئے سیدھے نبی کریم خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک کی طرف چلے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی دیکھ رہے تھے ۔

وہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی خدمت اقدس میں پہنچے اورعرض کیا کہ : یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم ! عمیر کو کسی بھی قیمت پر امان نہ دیجئے گا، نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے فرمایا مفہوم ہے کہ اچھا ان کو لے آؤ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ چند اشخاص کو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی حفاظت کے لیے متعین کر کے خود حضرت عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لانے چلے گئے ۔ وہ تلوار لیے ہوئے داخل ہوئے تو اس وقت نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہٹا دیا ۔

حضرت عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سلام علیک کی جگہ “اتعمواصباحا” یعنی جاہلیت کا سلام کیا ۔ نبی کریم خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے فرمایا، اللہ عزوجل نے تمہارے طریقہ تحیہ سے ہم کو مستغنی کر دیا ہے اور ہمارا طریقہ تحیہ سلام متعین کر دیا ہے، پھر پوچھا کیسے آنا ہوا ؟ حضرت عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اپنے قیدیوں کو چھڑانے کے لیے آیا ہوں ۔ آخر آپ بھی تو ہمارے ہی ہم قبیلہ اور ہم خاندان ہیں ۔ نبی کریم خاتم النبیین ححضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے پوچھا ۔ یہ تلوار کیسی گلے میں آویزاں کی ہے ۔

حضرت عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ان تلواروں کا برا ہو ، یہ پہلے ہمارے کس کام آئیں ہیں ۔ اترتے وقت اس کو گلے سے نکالنا بھول گیا تھا ۔ اس لیے لٹکی رہ گئی ہے ۔ پھر نبی کریم خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے پوچھا سچ سچ بتاؤ تم کس ارادہ سے آئے ہو ؟ حضرت عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا صرف قیدیوں کو چھڑانے کے لیے آیا ہوں ۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے فرمایا تم نے صفوان سے کیا شرط طے کی تھی، اس سوال پر حضرت عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت گھبرا گئے اور کہا کہ میں نے کیا شرط طے کی تھی ؟ نبی کریم خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے فرمایا ۔ ان ان شرائط کے ساتھ تم نے قتل کا وعدہ کیا تھا ۔

یہ سنتے ہی حضرت عمیر رضی اللہ تعالیٰ کی حالت بدل گئی ۔ جس زبان سے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کے قتل کا عہد کر کے آئے تھے اب اسی زبان سے بے اختیار انک رسول اللہ و اشہدان لاالہ الا اللہ نکل گیا۔ حضرت عمیر رضی اللہ تعالیٰ کے قبول اسلام کے بعد نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے مسلمانوں سے فرمایا کہ اپنے بھائی کو آرام پہنچاؤ اور ان کے قیدی بھی چھوڑ دو ۔

حضرت عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے قرآن سیکھا اور مکہ والوں کو جاکر تبلیغ کی جس سے مکہ والوں کی بڑی تعداد مسلمان ہو گئی ۔

یہ بھی پڑھیں
حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ عنہ کے قبولِ اسلام کا ایمان افروز واقعہ” ایک تبصرہ

Leave a Reply