مدفن کیسے بنا ؟

میدان احد حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ کا مدفن کیسے بنا ؟

حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے غزوۂ بدر کی شرکت میں اختلاف ہے ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیر میں چوٹ آگئی تھی، اس لیے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ لنگڑا کر چلتے تھے ۔ اس لیے جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے غزوہ بدر کے لیے جانا چاہا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بچوں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کے حکم سے منع کیا کہ ایسی صورت میں جہاد فرض نہیں ہوتا ۔

غزوۂ احد میں بھی یہی واقعہ پیش آیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ تم لوگوں نے مجھ کو بدر جانے سے روکا اب غزوہ احد سے بھی روک رہے ہو، لیکن میں ضرور جاؤں گا ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کو خبر کی تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے بلا کر سمجھا یا کہ آپ معذور ہو لیکن آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہادت کی آرزو تھی عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم ! یہ بچے مجھے آپ کے ساتھ جانے سے روک رہے ہیں،لیکن اللہ کی قسم مجھے یہ امید ہے کہ میں اسی لنگڑے پیر سے جنت میں گھسیٹتا ہوا پہنچ جاوں گا۔

رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے یہ سن کر زیادہ زور دینا پسند نہیں کیا اور بچوں کو سمجھایا کہ اب ان کو روکنے کا اصرار نہ کریں ، شائد ان کی قسمت میں شہادت ہی لکھی ہو ۔ غزوہ احد میں جب لڑائی کی شدت کے وقت مسلمان منتشر ہونے لگے تو حضرت عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے بیٹے حضرت خلاد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لے کر مشرکین پر حملہ کیا اور اس قدر جرآت و پامردی سے لڑے کہ دونوں باپ بیٹوں نے شہادت پا لی ۔ یوں حضرت عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے لنگڑاتے ہوئے پیر کے ساتھ جنت میں پہنچ گئے۔

رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم ان کی طرف سے گذرے تو دیکھا کہ یہ شہید ہو چکے ہیں تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے فرمایا خدا اپنے بعض بندوں کی قسم پوری کرتا ہے، حضرت عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی انہی میں ہیں اور میں ان کو جنت میں اسی لنگڑے پاؤں کے ساتھ چلتے ہوئے دیکھ رہا ہوں ۔

لڑائی ختم ہو جانے کے بعد جب حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی حضرت ہند رضی اللہ تعالیٰ عنہا میدان جنگ میں گئیں تو ان کی لاش کو اونٹ پر لاد کر دفن کرنے کے لیے مدینہ منورہ لاناچاہا لیکن ہزاروں کوششوں کے باوجود وہ اونٹ مدینہ کی طرف نہیں چلتا تھا بلکہ وہ میدان جنگ ہی کی طرف بھاگ بھاگ کر جا رہا تھا ۔ حضرت ہند رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جب دربار رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم میں یہ ماجرا عرض کیا تو نبی کریم خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے فرمایا کہ کیا حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے گھر سے نکلتے وقت کچھ کہا تھا؟

حضرت ہند رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا کہ جی ہاں !وہ یہ کہہ کر گھر سے نکلے تھے : اللھم لا تردنی الی اھلی (اے اللہ !عزوجل مجھے میدان جنگ سے اپنے اہل و عیال میں واپس آنا نصیب مت کرنا ) ۔ نبی کریم خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہی و جہ ہے کہ اونٹ مدینہ منورہ کی طرف نہیں چل رہا ۔ لہٰذا تم ان کو مدینہ لے جانے کی کوشش مت کرو۔ یوں میدان احد ہی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مدفن بنا ۔

یہ بھی پڑھیں
حضرت عمرو بن الجموح رضی اللہ تعالیٰ عنہ

2 تبصرے “میدان احد حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ عنہ کا مدفن کیسے بنا ؟

Leave a Reply