بجلی کیسے مہنگی ہوئی ؟ ناصر بٹ

بجلی کا مہنگا ھونا ایک دن یا کسی ایک حکومت کی وجہ سے نہیں ھے یہ ھماری تیس چالیس سالہ شتر مرغ کی طرح سر ریت میں دبا لینے والی پالیسیز کی بدولت ممکن ھوا ھے اس میں جو فیکٹرز روبہ عمل رھے ان کا اس پوسٹ میں جائزہ لیتے ھیں۔
سب سے پہلا فیکٹر یہ ھے کہ ھم نے اپنی آبی وسائل سے مجرمانہ غفلت برتی اور ڈیمز بنانے کی طرف نہیں گئے جب بھی ڈیمز بنانے کا کوئی پروگرام سامنے آیا ملک میں شوروغوغا شروع ھو گیا صوبوں سے طرح طرح کی آوازیں بلند ھونا شروع ھو گئیں خصوصاً کالاباغ ڈیم ملک میں ایسا مسئلہ بن گیا جس کی آڑ میں کوئی اور ڈیم بھی نہ بنایا گیا اب خدا جانے یہ کالاباغ ڈیم کا شوشا اسی لئیے شروع کیا جاتا تھا تاکہ کوئی اور ڈیم بھی نہ بنایا جا سکے کیونکہ اگر کالا باغ ڈیم پر اتفاق رائے نہیں ھو رھا تھا تو کئی دوسرے ڈیمز جو بنائے جا سکتے تھے وہ کیوں نہ بنائے گئے؟ نتیجہ بہرحال یہ نکلا کہ دنیا میں بجلی بنانے کا سب سے سستا طریقہ جس سے ھم اپنے آبی مسائل کا بھی حل نکال سکتے تھے،ممکن نہ ھو پایا۔
بجلی مہنگی ھونے کا دوسرا سب سے اھم فیکٹر یہ تھا کہ بجلی چوری کو نہ روکا جا سکا اسکی وجوھات پہلے ایک پوسٹ میں لکھ چکا ھوں۔
تیسرا اھم فیکٹر صنعتی گروتھ کا نہ بڑھنا ھے۔
آئی پی پیز کے ساتھ معاھدوں کے مطابق انہیں کپیسٹی چارجز ادا کرنا ھوتے ھیں ان سے جس قدر زیادہ بجلی خریدی جائے گی اتنے ھی بجلی کے یونٹس سستے پڑیں گے ماھرین کے مطابق اگر آئی پی پیز سے خریدے جانے والے یونٹس ڈبل ھو جائیں تو ان یونٹس کی قیمت آدھی رہ جاتی مگر صنعتی سرگرمیاں نہ بڑھنے سے بجلی کی کھپت میں متوقع اضافہ ممکن نہ ھوا اور کپیسٹی چارجز کی مد میں دو ھزار ارب کی ادائیگی بجلی کو مہنگا کرنے میں سب سے بڑا فیکٹر بن گئی۔
بجلی مہنگی ھونے میں چوتھا بڑا فیکٹر عالمی سطح پر فیول کی آسمان کو چھوتی قیمتیں رھیں جو یوکرائن رشیا جنگ کی وجہ سے نیچے آنے کا نام ھی نہیں لے رھیں آج فرنس آئل اور ایل این جی کی قیمتیں جس بلندی پر ھیں اور ھمارا فرنس آئل اور ایک این جی سے بننے والی بجلی پر جس قدر انحصار ھے اس نے بجلی کی فی یونٹ قیمت اتنی بڑھا دی ھے کہ اسے خریدنا اب عام صارف کے لئیے نہایت مشکل ھو چکا ھے اور اکثریت کے لئیے ناممکن ھوتا جا رھا ھے۔
بجلی مہنگی ھونے میں پانچواں فیکٹر جس کا ذکر آجکل ھر کسی کی زبان پر ھے وہ اشرافیہ کو مفت بجلی کی فراہمی ھے جس کا بوجھ بھی عام صارف کو اٹھانا پڑتا ھے تیرہ ارب روپے سالانہ مفت بجلی لینے والی اشرافیہ ان غریبوں کے دکھوں میں مزید اضافہ کرنے کا باعث بن رھی ھے جو آج بجلی کا بل ادا کرنے کے لئیے گھر کی چیزیں بیچ رھے ھیں۔
نوٹ : ہم دوست ویب سائٹ اور اس کی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

Leave a Reply