روز گارِ فقیر ، تحریر: محمد راشد بُھٹہ

زیادہ تر کتابیں نظریات, تاریخی واقعات اور شخصیات پر لکھی جاتی ہیں. شخصیات کی سوانح عمریاں لکھی جاتی ہیں یا وہ آپ بیتی لکھتے ہیں. لیکن بعض اوقات کسی اہم شخصیت سے ملاقاتوں کا مجموعہ بھی ایک کتاب کا روپ دھار لیتا ہے.’ روز گارِ فقیر’ بھی اسی کی ایک کڑی ہے . ‘روزگارِ فقیر’ فقیر سید وحید الدین کی لکھی ہوئی کتاب جو 1950ء میں شائع ہوئی تھی. جس میں فقیر سید وحیدالدین اپنے بچپن سے علامہ اقبال کی وفات تک ان سے ملاقاتوں کا تذکرہ کرتے ہیں.مصنف کے والد فقیر سید نجم الدین ,جو اقبال کے قریبی دوست تھے اور ان کا اقبال سے تعلق مصنف کے نانا افتخار الدین کی وجہ سے تھا. مصنف کے والد کا چھٹیوں میں اقبال کے ہاں جانا معمول تھا اور مصنف کو بھی یہ حکم تھا کہ وہ پڑھے یا نہ پڑھے لیکن علامہ صاحب کے پاس ضرور جایا کرے.جس کا آغاز 1916ء سے ہوا تھا جب مصنف 13, 14 برس کے تھے .علی گڑھ سکول میں چھٹیوں کی وجہ سے لاہور آئے ہوئے تھے اور والد کے ہمراہ اقبال سے ملاقات ہوئی اور پھر تا دمِ مرگ ملاقاتیں ہوتی رہیں. جن کی بنیاد پر مصنف نے کتاب میں علامہ صاحب کے بارے میں لکھا ہے.

اقبال کے پیغام اور اس کے فکری نظریات پر اس حد تک خامہ فرسائی ہوئی کہ ان کی شخصیت ہماری نگاہوں سے بڑی حد تک اوجھل ہوگئی ہے لیکن اس تصنیف میں اقبال کی زندگی کے گھریلو, روزمرہ مناظر, ان کی نجی صعوبتیں, رنجشیں, راحتیں, ان کے آنسو اور قہقتے سب شامل ہیں.یہاں اقبال بحثیت انسان نظر آتے ہیں.
کسی مفکر نے کہا تھا کہ بچے کی پہلی یونی ورسٹی اس کا اپنا گھر ہوتا ہے. اقبال کے والد شیخ نور محمد علمی ذوق رکھتے تھے اس کی وجہ سے ان کو ‘ان پڑھ فلسفی ‘بھی کہا جاتا ہے .اقبال کو عشقِ رسول والد سے وراثت میں ملا تھا.علامہ صاحب کی قلندریت اور درویش صفتی پر باپ کی شانِ فقر بھی اثر انداز ہوئی کیونکہ اقبال جس کو خودی کہتے ہیں .وہ دراصل قصر و ایوان میں نہیں بلکہ غریب گھر کے ماحول ہی میں نشونما پاتی ہے .والدہ امام بی بی ایک نیک سیرت خاتون تھیں. بڑے بھائی شیخ عطا محمد ,جو فوج میں ملازمت کرتے تھے, کو فنِ تعمیر سے گہری دلچسپی تھی اور وہ اقبال کے تعلیمی اخراجات پورے کرتے تھے .

حدیث نبوی ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی دولت قناعت ہے جو اقبال کی زندگی میں نمایاں نظر آتی ہے .دورِشباب میں اقبال خوش روا اور خوش زیب نوجوان تھے بڑھیا انگریزی لباس پہنتے تھے لیکن بعد میں سادگی اختیار کرلی .یہاں تک کہ کپڑے علی بخش اپنی مرضی سے خرید لاتے یا درزی خود خرید کر سلائی کردیتا اور علامہ صاحب بغیر اعتراض کے پہن لیتے تھے. زیادہ تر وقت دھوتی اور بنیان میں گزارتے تھے. ایک دھوبی جو اقبال کا عقیدت مند تھا ان سے ملنے آیا تو علامہ صاحب کو دھوتی اور بنیان میں دیکھ کر پہچان نہ سکا اور پوچھا کہ اقبال کہاں ہے ؟ جس پر علامہ صاحب نے مسکرا کر جواب دیا کہ” میں ہوں “.علامہ صاحب کی سادگی کے بارے میں پروفیسر سلیم چشتی لکھتے ہیں کہ میں نے دس سال کی مدت میں علامہ صاحب کو صرف تین بار کوٹ پہنے دیکھا تھا. یہی سادگی باقی معمولاتِ زندگی میں بھی نظر آتی ہے. علامہ صاحب زیادہ تر دن میں ایک بار کھانا کھاتے تھے. انگور, آم اور خربوزے شوق سے کھاتے تھے لیکن حقہ جزو است زندگی تھا. علامہ صاحب کی آمدنی کبھی ایک ہزار روپے ماہوار سے زیادہ نہ ہوئی تھی لیکن مقدمے سات سو روپے ماہوار سے زیادہ نہ لیتے تھے. شروع میں کرائے کے مکان میں لیکن عمر کے آخری حصے میں اپنے گھر میں رہتے تھے. ڈاکٹر جاوید اقبال کے مطابق تنگدستی کے باعث والدہ علامہ صاحب سے کبھی کبھی برہم ہوا کرتی تھیں تو علامہ صاحب مسکرا دیتے تھے. ویسے بھی اقبال تساہل پسند تھے زیادہ تر وقت خاموش اور سوچتے رہتے تھے.

ہر انسان میں حسِ ظرافت موجود ہوتی ہے اور علامہ صاحب کے ذوق مزاح کا سراغ مختلف واقعات سے ملتا ہے. اخبار وطن کے ایڈیٹر مولوی انشاء اللہ خان علامہ صاحب کے دوست تھے. جب علامہ صاحب انار کلی والے مکان میں رہتے تھے تو وہ علامہ صاحب سے ملنے آتے رہتے تھے. اس وقت انار کلی میں کشمیری طوائفیں بھی رہتی تھیں .بعد میں میونسپل کمیٹی نے ان کو دوسری جگہ تجویز کر دی .جس کے بعد مولوی مشتاق علامہ صاحب سے ملنے آتے لیکن ہر دفعہ معلوم ہوتا کہ علامہ صاحب نہیں ہیں. ایک دفعہ جب ملاقات ہوگی تو مولوی صاحب نے علامہ صاحب سے کہا کہ جب سے کشمیری طوائفیں گئی ہیں آپ کا بھی دل نہیں لگتا ہے جس پر علامہ صاحب نے کہا کہ” مولوی صاحب آخر کار وہ بھی تو وطن کی بہنیں ہیں”. اکبر الہ آبادی ,جن سے اقبال کو عقیدت تھی , نے ایک دفعہ جب علامہ صاحب بیمار تھے ان کے لیے ‘لنگڑا’ آم کی بیٹی بھیجی تو اقبال نے لکھا کہ
اثر یہ تیرے اعجازِ مسیحائی کا ہے اکبر
الہ آباد سے لنگڑا چلا لاہور تک آیا
علامہ صاحب کے دوست جب لندن سے آئے اور ملاقات کے لیے علامہ صاحب کے پاس حاضر ہوئے تو اقبال نے دریافت کیا کہ ولایت سے ہو آئے ہو ؟اس نے جواب دیا کہ میں تو آٹھ سال کی عمر میں ہی انگلینڈ چلا گیا تھا. علامہ صاحب نے کہا پھر تو یوں کہنا چاہیے کہ”
میموں کے سائے میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیں”

اقبال بحیثیت شاعر تمام شاعروں سے مختلف تھے. خودنمائی سے نفرت تھی. مشاعروں میں جاتے تھے نہ نجی صحبتوں میں شعر سنتے سناتے تھے .مصنف کو بائیس سالوں میں صرف ایک شعر سنایا تھا کہ
یہ مصرعہ لکھ دیا کس شوخ نے محرابِ مسجد پر
یہ ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقت قیام آیا
کہتے تھے کہ جب شاعر کی آنکھیں کھلی ہوتی ہیں تو دنیا کی بند ہوتی ہیں لیکن جب شاعر کی آنکھیں بند ہو جاتی ہے تو پھر اس کے متعلق دنیا کی آنکھیں کھل جاتی ہیں. خود شاعری میں الہام کے قائل تھے مصنف نے جب ایک دفعہ پوچھا کہ آپ شعر کیسے کہتے ہیں؟ تو علامہ صاحب نے جواب دیا کہ فارمن کرسچن کالج کے پرنسپل نے ایک دفعہ ان کو دعوت پر بلایا اور ان سے علیحدگی میں پوچھا کہ کیا قرآن رسول پاک نبی کریم پر ایسی ہی عبارت میں اترا تھا یا مفہوم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح بیان کیا ہے؟ تو اقبال نے جواب دیا کہ قرآن ہوبہو اس فارم میں اترا تھا. جس پر پرنسپل نے حیرانی سے کہا کہ اقبال آپ جیسا انسان بھی اس پر یقین کرتا ہے! تو اقبال نے کہا :”
ڈاکٹر ! یقین !میرا تجربہ ہے. مجھ پر شعر پورا اترتا ہے تو پیغمبر پر عبارت پوری کیوں نہیں اتری ہو گی “؟
علامہ صاحب تخیل میں مولانا جلال الدین رومی کو اور انداز میں مرزا بیدل کو اپنا پسندیدہ شاعر مانتے تھے. ایک دفعہ سر راس مسعود سے اپنی شاعری ہی میں بیت بازی ہوئی تو اقبال اس میں ہار گئے.

علامہ صاحب جو دور طفولیت سے علمی ذوق رکھتے تھے اور جب خود پڑھانے جاتے تھے تو لیکچر بغیر تیاری کے دیتے تھے. بڑے سخت ممتحن تھے. نمبر غیر معمولی احتیاط سے دیتے تھے. اگر کوئی کسی کے نمبر بڑھانے کا کہہ دیتا تو ڈانت دیتے اور کہتےکہ “نااہل اور نالائق نوجوان میری قوم میں سے نہیں ہیں”.
ایک دفعہ طلبا نے جب آپ سے نصیحت کو کہا تو جواب دیا کہ
” اب تک جو کچھ میں کہہ چکا ہوں پہلے اس پر عمل کرو”.
کیونکہ جب ایک دفعہ طلباء سے دریافت کیا کہ انہوں نے خطبات مدراس( Reconstructin of religious thoughts in Islam)پڑھی ہے تو جواب نفی میں ملا تو علامہ صاحب کہتے تھے کہ “اگر یہ کتاب خلیفہ مامون الرشید کے دور میں شائع ہوتی تو پورے عالم اسلام میں ایک تہلکہ مچ جاتا”.

علامہ صاحب کو مختلف ممالک کے دوروں کا بھی موقع ملا. جہاں پر ان کی ملاقاتیں سرکرداں لوگوں سے ہوئی. جن میں بینٹو مسولینی سے ملاقات قابل ذکر ہے. اقبال سے فاشسٹ تحریک کے متعلق جب مسولینی نے پوچھا تو علامہ صاحب نے کہا کہ آپ نے ڈسپلن کے اس اصول کا بڑا حصہ اپنا لیا ہے. جسے اسلام انسانی نظام حیات کے لیے بہت ضروری سمجھتا ہے. مسولینی کے پوچھنے پر کہا کہ اگر دنیا کے مسلمانوں کی ہمدردیاں چاہتے ہوتو مفت تعلیم اور رہائش کا انتظام کرکے زیادہ طلبا کو اٹلی بلایا جائے. جب مسولینی نے اچھوتا مشورہ مانگا تو اقبال نے کہا کہ ہر شہر کی آبادی مقررہ حد سے نہ بڑھنے دو اس سے تہذیبی و اقتصادی توانائی کم ہوتی ہیں اور ثقافتی توانائی کی جگہ محرکاتِ شر لے لیتے ہیں.جس پر مسولینی نے کہا
What an excellent idea!
تو اقبال نے کہا کہ یہ ہمارے رسول کا آزمودہ طریقہ ہے. لیکن مسولینی کو یہ بھی کہا کہ
Turn your back towards Europe.
لوگوں کے سوال پر جواب دیا کہ مسولینی “بغیر بائبل کے لوتھر ہیں “لیکن بعد میں جب فاشٹ تحریک بدنام ہوئی تو اقبال سے پوچھا گیا جو انہوں نے مسولینی کی تعریف کی تھی .تو جواب دیا کہ “اگر ایک شخص میں رحمانی اور شیطانی دونوں صفات موجود ہوں تو میں کیا کروں ؟”

علامہ صاحب کی زندگی کا وہ نمایاں پہلو جس کو بیان کیے بغیر ان کی شخصیت کا تذکرہ نامکمل ہے وہ ان کا عشقِ رسول تھا. رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خاکِ پا کو سرمۂ چشمِ بصیرت تصور کرتے تھے. ڈاکٹر جاوید اقبال اپنی کتاب ‘اپنا گریبان چاک’ میں لکھتے ہیں کہ بچپن میں علامہ صاحب مجھے مسدسِ حالی(مدوجزرِاسلام جس کو اقبال شکوۂ ہندی کہتے تھے) پڑھنے کو کہتے تھے تو میں جب یہ مصرعہ پڑھتا تھا کہ
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
تو علامہ صاحب زارو قطار روتے تھے. ایک بار مصنف نے حج کے بارے میں پوچھا تو جواب دیا کہ
” فقیر! میں کس منہ سے روزہ اطہر پر حاضر ہوتا !”
کسی نے دریافت کیا کہ رسول کی زیارت کیسی ہوتی ہے؟ تو جواب دیا کہ اپنی زندگی سیرتِ رسول کے مطابق گزارو پھر خود کو دیکھو یہی زیارت ہے.
علامہ صاحب کی زندگی پر یہ اشعار ثابت آتے ہیں.
ایک دانہ پہ ہے نظر تیری
اور خِرمن کو دیکھتا ہوں میں
میں کسی کو بر ا کہوں, توبہ
ساری دنیا سے خود برا ہوں میں

نوٹ : ہم دوست ویب سائٹ اور اس کی پالیسی کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں

Leave a Reply