عمان میں منعقدہ پاکستانی کمیونٹی کی ایک علمی و ادبی محفل کی روداد : امیر حمزہ

کچھ لوگوں سے خونی رشتے تو نہیں ہوتے لیکن اْن سے اتنی قربت ہو جاتی ہے کہ بہت سارے خونی رشتے بھی پیچھے رہ جاتے ہیں۔ قمر ریاض المعروف ( حضور) سے میرا تعلق کچھ ایسا ہی ہے۔ پائدار رشتے یوں ہی وجود میں نہیں آ جاتے بلکہ ان کے پیچھے خلوص و اپنائیت، ایثار و قربانی اور بے پناہ محبت کی ایک مضبوط بنیاد ہوتی ہے۔ مجھے احساس ہے کہ حضور نے ہمیشہ قولی و عملی ہر اعتبار سے اس بنیاد کو مضوط تر کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگست کے آغاز میں حضور نے مجھے کہنا شروع کردیا امیر صاحب جشن آزادی کے موقع پر فیسٹول کرواتے ہیں، ان کی بات سنتے ہی میں نے ٹالنا شروع کر دیا کہ حضور آجکل مصروفیت بہت بڑھ گئی ہے اور ویسے بھی پچھلے فیسٹول پر جو ( ۲۰۱۹) میں کروایا تھا ایک نام نہاد حقیقت نامی ٹی وی نے اس وقت کے سفیر جناب علی جاوید اور منتظمین پر بلا سوچے سمجھے یہ الزام عائد کردیا تھا کہ حکومت پاکستان کا پچاس ہزار ڈالر خرچ کیا گیا ، مگر حقیقت اس کے برعکس تھی۔ لیکن وہ بضد تھے کہ ہم نے یہ فیسٹول ضرور کروانا ہے اور پاکستان سے نامور ادیب، کالم نگار اور دانشور اس تقریب کو چار چاند لگائیں گے، محبت اگر ضد پر آمادہ ہو جائے تو جیت کر ہی دم لیتی ہے اور کمال یہ ہے کہ جسے وہ شکست دیتی ہے اْسے بھی شکست کھا کر ایک عجیب سا لطف و سرور حاصل ہوتا ہے۔ قمر بھائی کی محبت بھری ضد کے آگے بجز سر تسلیم خم کرنے کے میرے پاس کوئی دوسرا چارہ نہ تھا۔
ہماری جیت یہی تھی کہ خود سے ہار آئے
کسی کے ہم پہ کئی قرض تھے اتار آئے

حضور کے قائل کرنے پر میں بھی آمادہ ہو گیا اس کی بڑی وجہ سفیر پاکستان عمران علی کی سرپرستی اور ان کی ادب سے لگن تھی کہ شاید اسی بہانے لوگوں کو ادبی محفل سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملے گا کیونکہ حدیث پاک کا مفہوم بھی ہے لوگوں کو مسکراہٹ دینا بھی ایک صدقہ ہے)

بلاآخر ۱۹ اگست کا وہ مبارک دن آگیا اور عمان کے کونوینشن سنٹر میں پاکستان سے آئے ہوئے ادیبوں نے بہار لگائی، جن میں ممتاز کالم نگار جناب عطاء الحق قاسمی، ڈاکٹر صغرٰی صدف، یاسر پیرزادہ، گل نوخیز اختر، کاشف مصطفی، تبسم، عباس تابش، احسان شاہد سمیت دیگر شعراء نے بھی فیسٹول کو چار چاند لگائے۔ یہ تقریب ہر لحاظ سے منفرد تھی جس میں پاکستانی کمیونٹی ، پاکستان سکول سسٹم کے اساتذہ کرام ، بورڈ آف ڈرائیکٹرز ، سینئر پرنسپل ، اور سفارتخانہ پاکستان کے افسران نے بھرپور شرکت کی، عباس تابش کی سحر انگیز شاعری اور عطاء الحق قاسمی کی مزاحیہ گفتگو نے خوب قہقے بکھیرے، اور گل نوخیز اختر واقعی ہی نوخیز ہے گل نوخیز کی تحریر میں بلا کی برجستگی اور شگفتگی ہے ۔ وہ بلا کا ذہین ہے جو لفظوں کے معمولی ہیر پھیر سے نت نئے جملے اور مصرعے تراشنے کا ہنر جانتا ہے ۔ وہ خوبصورت کردار اور کہانیاں بناتا ہے اور کہیں واشگاف قہقہوں کا سماں‌باندھ دیتا ہے ۔ یاسر پیرزادہ سے حضور کے توسط سے کافی پرانی شناسائی تھی مگر ان کو براہ راست سننے کا موقع ملا، یاسر پیرزادہ ایک قابل بیوروکریٹ کے علاوہ انتہائی وجیہ انسان ہیں اور اپنے سیدھے اور کھرے تجزیوں کے باعث جانے جاتے ہیں، خصوصی طور پر بے باک، اردو پوائنٹ کے ابھرتے ہوئے نوجوان صحافی برادر فرخ شہباز وڑائچ اور نوجوان حلقوں میں مقبول جرنلسٹ مخدوم شہاب الدین بھی شریک ہوئے۔

تاریخی فیسٹول میں تاریخ پاکستان اور موجودہ حالات پر ایک سیر حاصل گفتگو سفیر پاکستان کی تھی جو انتہائی مرکز اور تاریخی حوالہ جات سے جڑی ہوئی تھی ، سفیر پاکستان عمران علی چوہدری ایک قابل سفارتکار ہونے کے ساتھ تاریخ دان، دانشور ، صحافی ، معلم و مربّی، اور طبیب ہیں ، کثیر تعداد میں ملکی و غیر مکی عالمی اداروں میں لیکچرز بھی دے چکے ہیں، اور آجکل اپنی مصروفیات سے وقت نکال کر پاکستانی اسکول سسٹم کی تعمیر نو میں ہمارے دست و بازو ہیں ، آپ ایک ہمہ صفت موصوف انسان ہیں۔آپ سے بات کرتے وقت سوچنا پڑتا ہے کہ ہم کسی مورخ اور ادیب سے ہم کلام ہیں یا ایک استاد اور سفارتکارسے۔ اور اپ کی بے باکی کی وجہ سے اور خاص طور پر ( نہی عن المنکر) کی وجہ سے ( یہ بھی ایک دلچسپ موضوع ہے پھر مدلل گفتگو کریں گے) تنقیدی حلقوں میں( عرف عام میں “جگوں “ کی زبان پر آپ کا نام ہے۔ لیکن حکمت و ذہانت اورعقلمندی ودانشمندی سے معمور اشخاص کے لیے کا ئنات کے ہر ذرے سے ایسے خاموش اِشارے(Signals) مہیا ہوتے ہیں جسے نادان اپنی نادانی کے باعث حاصل نہیں کرپاتے۔ ہرانسان کو اچھائی اور برائی،نیکی اور بدی، سیاہ اورسفید، سچ اور جھوٹ،حق اور باطل،اندھیرے اوراُجالے میں تمیز کرنے کی فطری صلاحیت بخشی گئی جس کی کرنیں اِسی دماغ سے پھوٹتی ہیں۔وہ انسان جو اپنی نظروں کے سامنے آراستہ منظر کی ہر روشن شئے پرغورو فکر کرتے رہتے ہیں،جنہیں حا لات کا تجزیہ کرکے اپنے لیے ایک لائحہ عمل یا line of Actionمتعین و مرتّب کرنے ، اِسے ایک رخ دینے اور اپنی تیز گامی یا سست گامی کے مابین ایک اعتدال بر قرار رکھنے کا سلیقہ ہوتا ہے۔ایسے انسانوں کو صاحبِ شعور، ذہین، Sensible یا Intelligent انسان کہا جاتا ہے۔

کرشن چندر نے کیا خوب کہا ’’انسان مر جاتے ہیں، لیکن زندگی نہیں مرتی۔ بہار ختم ہو جاتی ہے لیکن پھر دوسری بہار آ جاتی ہے۔ چھوٹی چھوٹی محبتیں بھی ختم ہو جاتی ہیں لیکن زندگی کی بڑی اور عظیم سچی محبت اور دوستی ہمیشہ قائم رہتی ہے”
عمان میں مقیم پاکستانی کمیونٹی سیلاب سے متاثرہ پاکستانیوں کی مدد میں پیش پیش
اور سب سے آخر میں اس موقع پر میں شاندار فیسٹول منعقد کروانے پر اپنے بھائیوں اور دوستوں کا شکر گزار ہوں جنہوں اس تقریب کو یادگار بنانے میں اپنا کردار ادا کیا جن میں عامر مظہر ، میاں عامر ، ولید شاہ ، زیب جعفری، ابراھیم احمد، عمران فضل افتخار صاحب شامل ہیں.

Leave a Reply