آسمانی بجلی کیسےوار کرتی ہے ؟

آپ نے اکثر اسمانی بجلی کو آسمان پر چمکتے ہوئے دیکھا ہوگا ۔ ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ یہ بجلی کس قدر خطرناک ہوتی ہے ، یہ کتنی طاقتور ہوتی ہے اور زمین پر اپنا حملہ کیسے کرتی ہے ؟

بادلوں کی ٹھوس پرت پر برف اور پانی کے زرات جب آپس میں ٹکراتے ہیں یا رگڑ کھاتے ہیں تو آسمانی بجلی پیدا ہوتی ہے ۔

اس بجلی کی روشنی آسمان سے زمین کی طرف آتی ہے اور ایک کڑک دار آواز بنتی ہے جسے ہم گرج اور چمک کہتے ہیں ۔

بجلی چمکنے اور زمین پر گرنے کی رفتار دو لاکھ 70 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوتی ہے ۔

بجلی چمکنے کے دوران جو گرج پیدا ہوتی ہے ۔ وہ ہمیں بجلی چمکنے کے بعد ہی سنائی دیتی ہے کیونکہ روشنی کی رفتار ، آواز کی رفتار سے تیز ہوتی ہے ۔ جس کی وجہ سے بجلی پہلے دکھائی دیتی ہے اور اس کی گرج کی آواز بعد میں سنائی دیتی ہے ۔

آسمانی بجلی سورج سے پانچ گنا زیادہ گرم ہوتی ہے ۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہر سیکنڈ میں تقریبا سو سے زیادہ بجلی کے جھٹکے زمین پر آتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے ان کی تعداد سالانہ کے حساب سے 3 ارب بنتی ہے ۔

آسمانی بجلی کا یوں زمین پر گرنا ، اس کی وجہ سے دنیا میں ہزاروں جانور اور انسان ہلاک ہو جاتے ہیں جبکہ گھروں کو بھی نقصان پہنچتا ہے لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اعداد و شمار کے مطابق بجلی جن لوگوں پر گرتی ہے ان میں سے صرف دس فیصد لوگ جاں بحق ہوتے ہیں باقی ننانوے فیصد لوگ زندہ بچ جاتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں
آسمانی بجلی گرنے سے 14 افراد جاں بحق

ایسی صورتحال میں آپ کو چاہیے کہ گھر میں ہی رہیں ۔ غیر ضروری گھر سے باہر نہ نکلیں بجلی کی گرج اور چمک کی صورت میں کھلے آسمان کے نیچے نہیں رہنا چاہیے بلکہ گھروں کے اندر انسان زیادہ محفوظ رہتا ہے ۔

Leave a Reply