تھری ڈی کان

تھری ڈی کان لگوانے والی پہلی انسان

ایک نوجوان لڑکی اپنے خلیوں سے ہی بنا ہوا تھری ڈی کان لگوانے والی دنیا کی سب سے پہلی انسان بن گئیں۔

میکسیکو سے تعلق رکھنے والی یہ 20 سالہ الیکسا کان کے نقص کے ساتھ پیدا ہوئی تھی ۔ اس نقص میں ان کے کان کا بیرون حصہ مکمل طور پر نہیں تھا۔ تھری ڈی کان لگانے والے ڈاکٹروں کو امید ہے کہ یہ ٹرانسپلانٹ طب کی دنیامیں ’مائیکروٹیا‘ میں مبتلا افراد کے لیے انتہائی موثر علاج سامنے لاکر طب کی دنیا میں ایک انقلاب ضرور برپا کرے گا۔

مائیکروٹیا دراصل ایک پیدائشی حالت ہے ۔ جس میں ایک کان یا دونوں کانوں کا بیرونی حصہ نہیں ہوتا ۔ انسان کی یہ پیدائشی حالت سماعت کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ ڈاکٹر ارٹورو بونِیلا نے الیکسا کا نامکمل جزوی کان سرجری کے ذریعے ہٹا دیا تھا ۔ اس کان کو الیکسا کے کان کے تھری ڈی اسکین کے ساتھ تھری ڈی بائیو تھیراپیوٹکس کے لیے بھیجا تھا ۔ وہاں پہنچنے پر خاتون کے کونڈروسائس ٹشو سے علیحدہ ہونے کے بعد ان اجزاء کے ساتھ مل کر اربوں خلیات میں بدل گئےتھے ۔ ان خلیات کو کولاجین پر مبنی بائیو سیاہی کے ساتھ ملا دیا گیا تھا اور پھر تھری ڈی بائیو پرنٹر میں سرنج کے ذریعے ڈالا گیا تھا جس سے کان کا باہری حصہ بنایا گیا تھا۔

اس اِمپلانٹ کے اطراف میں گھُل جانے والا ایک خول بھی موجود ہے ۔ یہ خول ابتدائی سہارے کے لیے لگائے گئے ہیں اور یہ خول وقت کے ساتھ مریض کے جسم کے اندر جذب بھی ہوجائے گا۔ ان ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ لگائے جانے والے اس تھری ڈی کان کے پرنٹ ہونے کے عمل میں صرف 10 منٹ لگے تھے ۔

ڈاکٹر بونِیلا کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر سب چیزیں منصوبے کے مطابق ہو جاتی ہیں تو یہ تھری ڈی کان طب کی دنیا میں انقلاب ضرور برپا کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں
کندھے کا درد اور اس کا علاج

Leave a Reply