اگر آسمانی بجلی

اگر آسمانی بجلی کسی جہاز سے ٹکرا جائے تو کیا ہوتا ہے ؟

اگر موسم خراب ہو تو جہاز پر سفر خوفزدہ کردینے والا عمل محسوس ہوتا ہے ۔ خاص طور پر اس وقت جب بار بار آسمانی بجلی بھی چمک اور گر رہی ہو۔ لیکن کیا جہاز سے آسمانی بجلی کا ٹکرانا خطرناک عمل ہوتا ہے اور بجلی کی لہر ٹکرانے سے جہاز کو کیا ہوتا ہے؟اگر آپ کو یہ خیال خوفزدہ کرتا ہے تو اچھی خبر یہ ہے کہ جہازوں سے بجلی ٹکرانا بہت زیادہ عام بات ہے اور ایسا ہونے پر جہاز نیچے نہیں گرتے۔دنیا بھر میں روزانہ کی بنیاد پر کسی ایک جہاز کو ضرور آسمانی بجلی کی لہر کا سامنا ہوتا ہے۔

یو ایس نیشنل ویدر سروس کے مطابق ہر جہاز سے سال بھر میں ایک یا 2 مرتبہ آسمانی بجلی ضرور ٹکراتی ہے۔ جہاز سے آسمانی بجلی ٹکرانے کا انحصار متعدد عناصر پر ہوتا ہے ۔ جیسا کہ جہاز سال بھر میں کتنی بار پرواز کرچکا ہے۔ جو جہاز دن بھر میں کئی بار پرواز کرچکے ہیں ان کا آسمانی بجلی سے ٹکرانے کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح جغرافیائی عناصر بھی اس حوالے سے بڑی اہمیت رکھتے ہیں ۔ جیسا کہ شمال کے مقابلے میں خط استوا میں واقع خطوں میں جہاز سے آسمانی بجلی ٹکرانے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

ویسے سننے یا پڑھنے میں آسمانی بجلی سے ٹکرانا اچھا تجربہ محسوس نہیں ہوتا لیکن موجودہ دور کے جہاز آسمانی بجلی کو مدنظر رکھ کر ہی ڈیزائن کیے جاتے ہیں۔ٹائم میگزین کی ایک رپورٹ کے مطابق 1967 میں آخری بار آسمانی بجلی سے ایک کمرشل جہاز حادثے کا شکار ہوا تھا۔اس کے بعد اب جہازوں کو تیار کرتے ہوئے مخصوص ٹیسٹ کیے جاتے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ آسمانی بجلی ٹکرانے سے کسی قسم کا کوئی جانی و مالی نقصان نہ ہو۔

آسمانی بجلی عام طور پر کسی جہاز کی ناک یا ونگ کے کسی کونے سے ٹکراتی ہے ۔ جس کے بعد برقی رو جہاز کے باقی تمام حصوں کی جانب بڑھ جاتی ہے۔ لیکن جہاز کی باڈی کسی جنگلے کی طرح اندرونی حصے کو تحفظ فراہم کرتی ہے اور برقی رو جہاز کے اوپری حصے سے گزر جاتی ہے۔ کبھی کبھار بجلی ٹکرانے سے کچھ وقت کے لیے جہاز کی لائٹس جلنے بجھنے بھی لگتی ہیں یا کچھ انسٹرومنٹ کے افعال بھی متاثر ہو جاتے ہیں اور بس ۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا ۔ البتہ کبھی کبھار آسمانی بجلی سے طیارے کے کسی حصے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ضرور ہو سکتا ہے ۔

2021 میں ایسے 11 واقعات رپورٹ ہوئے تھے جن میں آسمانی بجلی کے باعث جہاز کی مرمت یا محض چیکنگ کی گئی تھی ۔ اور یہ تعداد نہ ہونے کے برابر ہے کیوں کہ 2021 میں کمرشل پروازوں کی تعداد تقریباً 30 کروڑ 40 لاکھ تھی۔ اور ہاں اکثر مسافروں کو تو یہ علم بھی نہیں ہو پاتا کہ بجلی کی لہر طیارے سے ٹکرائی بھی ہے یا پھر نہیں ۔ بہت کم مواقعوں میں انہیں اس بات کا احساس ہوتا ہے ۔ آسمانی بجلی کی لہر سے ایندھن میں آگ بھی بھڑک اٹھنے کا خدشہ ہوتا ہے ۔ اس لیے جہازوں کے فیول ٹینک کو اس حوالے سے بہت ہی زیادہ تحفظ فراہم کیا جاتا ہےاور پائیدار بنایا جاتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں
ملکہ برطانیہ کی کچھ دلچسپ اور انوکھی باتیں

Leave a Reply