بڑا سیارہ

چھوٹے سیاروں کو نگل جانے والا بڑا سیارہ

ہمارے نظام شمسی کا پانچواں سیارہ جسے مشتری کہا جاتا ہے۔ اس سیارے کے بارے میں انکشاف ہوا ہے کہ اس نے کئی چھوٹے چھوٹے سیاروں کو نگلا ہے ۔ جس کی وجہ سے اس کی ساخت میں تبدیلیاں آئیں ہیں ۔

ایک بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق سیارہ مشتری کی سطح میں صرف 9 فیصد دھات اور چٹانیں ہیں جب کہ بقیہ تمام سیارہ دبیز گیسوں پر مشتمل ہے ۔ اس بات سے ماہرین نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ اپنے ابتدائی دنوں میں اس نے کئی چھوٹے چھوٹے سیارے کو تیزی سے نگلا ہوا ہے ۔ اور اسی وجہ سے یہ سیارہ اس حال تک پہنچا ہے۔ اس سیارے کو ناکام سورج بھی کہا جاتا ہے ۔ یہ سیارہ زیادہ تر ہیلیئم اور ہائیڈروجن گیسوں سے بنا ہوا ہے ۔ بظاہر اس سیارے میں سورج کی تشکیل کے وقت اولین نیبولہ کے آثار بھی پائے جاتے ہیں لیکن اس میں پتھر اور دھاتوں کی مقدار کی کثرت دیکھ کر ایک نئی تحقیق کی گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اپنے ابتدائی دنوں میں یہ چھوٹے تشکیل پذیر بہت سے سیاروں اور ان کے بے شمار اجزاء کو نگل چکا ہے۔ اس نئی دریافت کا سہرا ناسا کے جونو خلائی جہاز کو جاتا ہے ۔ اس جونو خلائی جہاز نے مشتری پر تفصیل سے تحقیق کی ہے اور اس تحقیق سے ہمارے اولین تصورات بھی بدل دیئے ہیں۔

خلائی جہاز جونو پر نصب جدید آلات کی وجہ سے مشتری کے اندر کی ساخت اور دیگر معلومات بھی ماہرین کو ملی ہیں ۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اپنی تشکیل کے وقت مشتری پتھریلے اجزا سے تشکیل پا رہا تھا ۔ لیکن اس کے بعد ابتدائی نظام شمسی کی گیسز اس میں جمع ہونا شروع ہوگئی تھیں اور لاکھوں کروڑوں برس میں یہ سیارہ مکمل طور پر گیسی دیو میں تبدیل ہوگیا تھا ۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ مشتری پر گہرے بادلوں اور گیسوں کی دبیز چادر تنی ہوئی ہے ۔ جس کی موٹائی کم سے کم 50 کلو میٹر ہے ۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس کے نیچے جھانک کر ہی ہم اس کے ماضی کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ کر سکیں گے اور اس سیارے کی تشکیل کا خاکہ مرتب کر سکیں گے ۔

اگرچہ یہ سیارہ نظام شمسی کا سب سے پرانا اور قدیم سیارہ ہے لیکن اس کے کئی رازوں سے پردہ اٹھنا ابھی بھی باقی ہے۔ جونو کی ابھی تک کی تحقیق یہ بتاتی ہے کہ سیارہ مشتری نے اپنے اطراف میں موجود پتھریلے سیاروں کا ابتدائی مواد نگل لیا تھا اور اگر یہ سیارہ ایسا نہ کرتا تو شاید نظام شمسی میں آج بھی مزید سیارے موجود ہوتے۔

یہ بھی پڑھیں
ناسا نے سورج کی بغل میں ایک اور سورج دریافت کرلیا

Leave a Reply