زیتون کا درخت

زیتون کا درخت سب سے پہلے کس نے ، کب اور کہاں اگایا تھا

حال ہی میں کی جانے والی ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ زیتون کا درخت سب سے پہلے7 ہزار سال پہلے اُگایا گیا تھا۔ زیتون کے درخت کو اسلام میں مبارک درخت کہا جاتا ہے ۔ کیونکہ اس درخت کا ذکر قرآن مجید میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں زیتون کی قسم بھی اٹھائی ہے ۔ زیتون نبی کریم خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی پسندیدہ غذا بھی ہے۔

تل ابیب یونیورسٹی اور یروشلم کی ہیبریو یونیورسٹی کے محققین نے اس تحقیق کے نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس تحقیق میں وادی اردن کے علاقے تل ساف سے ملنے والی چارکول کی باقیات کا تجزیہ کیا گیا ہے ۔ اس تجزیے کے بعد ہمیں پتہ چلا ہے کہ یہ باقیات زیتون کے درختوں کی ہیں۔ تحقیق کرنے والے محققین کا اندازہ ہے کہ زیتون کے درخت وادی اردن میں قدرتی طور پر نہیں اُگتے یقیناً وہاں کے رہائیشیوں نے ان درختوں کو وہاں اُگایا ہوگا۔

تل ابیب یونیورسٹی کے شعبہ آثارِ قدیمہ کی رہنما مصنفہ ڈاکٹر ڈیفنا لینگٹ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ درختوں کی لکڑی قدیم دنیا میں پلاسٹک کی طرح ہی ہوا کرتی تھی۔ اس لکڑی کو تعمیر، اوزار اور توانائی کے ذریعے استعمال کیا جاتا تھا۔ محققین کا یہ بھی کہنا ہے کہ شناخت کی گئی درختوں کی یہ باقیات اس بات کو سمجھنے کے لیے کافی اہم ہیں کہ اس وقت قدرتی ماحول میں کس قسم کے درخت اُگا کرتے تھے اور انسانوں نے پھل آور درختوں کو اُگانے کا کام کب اور کس وقت شروع کیا تھا ۔

محققین کا مزید یہ بھی کہنا ہے کہ درختوں کے جلنے کے بعد بھی ان کے حیاتیاتی ساخت کے ڈھانچے کی مدد سے ان کو پہچانا جاسکتا ہے۔ یاد رہے کہ تل ساف کا گاؤں وادی اردن کے وسط میں آباد ہے ۔ اور یہ شہر 6700 سال سے 7200 سال کے درمیان قبل از تاریخ دور میں بھی آباد تھا۔

یہ بھی پڑھیں
دنیا کی منفرد اور انوکھی بارش جو صرف ایک گاڑی پر ہوئی

Leave a Reply