ہم لوگ اسپیشل ہیں : ادریس بابر

شہر کی سڑکوں پر مٹر گشت کرتے ہوے آپ نے انہیں فٹ پا تھوں پر دیکھا ہو گا۔ یا ٹرین سے سفر کرتے ہوئے بوگی در بوگی لڑھکتے ہوئے پایا ہو گا۔ بس اڈے اور ریلوے سٹیشن پر ہی نہیں ، پوش شاپنگ پلازوں کی پارکنگ سے لے کر عام گلی محلوں تک، وہ آپ کو ہر جگہ نظر آئے ہوں گے۔ اور نہیں نظر آئے ہوں گے۔

بات ہو رہی ہے ان افراد کی جو ہمارے معاشرے کے مروجہ معیارات کے مطابق کسی نہ کسی اعتبار سے معذور ہیں۔ لہذا کچھ تو پسماندہ نوعیت کے کام کاج کرنے پر مامور ہیں۔ باقی ماندہ بھیک مانگنے پر مجبور ہیں۔ گنتی کی بعض مثالیں چھوڑ کر معاشرے کا رویہ ان افراد کے لیے منفی پایا گیا ہے۔

جنگل کا دستور روا رکھنے والے شہروں میں یہ احساس پیدا کرنا جان جوکھوں کا کام ہے کہ یہ لوگ عام نہ سہی تو کچھ خاص ضرور ہیں۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اب جہاں نئے شعور نے اس بارے میں عوام کی آنکھیں کھولی ہیں وہیں ایسے ادارے بھی وجود میں آنے لگے جنہوں نے ان دھتکارے ہوے لوگوں کو جدید تعلیم و تربیت سے آراستہ کرنے کا اہتمام کیا۔ انہیں زندگی کی دوڑ میں مزدور بھر شامل ہونے کے قابل بنایا۔ اور اس طرح یہ احساس دلایا کہ یہ لوگ سپیشل ہیں۔

لاپور کینٹ میں واقع زیست ویلفئیر آرگنائزیشن ایسے ہی سپیشل بچوں کے لیے کام کر رہی ہے۔ تنظیم کے زیر اہتمام سپیشل بچوں کو آرٹ ٹیچر، سپیچ تھراپی، سائیکولوجسٹ اور کمپیوٹر روم کی سہولیات حاصل ہیں۔ جن کا مستحقین سے تو معاوضہ بھی نہیں لیا جاتا۔

متعلقہ معلومات اور تصاویر اسی ادارے کے مینیجر خلیل صادق، اساتذہ اور طلبہ کے خصوصی شکریہ کے ساتھ
اور آخر میں سپیشل بچوں کے عالمی دن کے موقع پر ایک خصوصی سیگمینٹ کے طور پر تیار کیا جانے والا تاہم پیش نہ کیا جا سکنے والا ایک عشرہ پیش ہے۔

عشرہ / سپیشل

بے معنی اشارے تک – آواز کو کافی ہیں
ٹوٹی ہوئی آوازیں – الفاظ کو کافی ہیں
دشوار سہی جینا – تیار ہے یہ سینہ
یہ سہمے ہوئے بازو پرواز کو کافی ہیں
یہ اکھڑے ہوئے پاوں – یہ ادھڑے ہوئے لہجے
انداز کو کافی ہیں – ہر ساز کو کافی ہیں
دیکھیں نہ تو رہ جائیں تاریک، سویرے بھی
سوچیں تو اندهیرے بھی آغاز کو کافی ہیں
معذور سمجھنے سے – تم – دور سمجھنے سے
کم لوگ سپیشل ہیں – ہم لوگ سپیشل ہیں

Leave a Reply