مظلوم عورت ہی معاشرے میں قصور وار، لیکن کیوں؟ : محمد عمربھنڈر

یتیم بچیوں کے حقوق کے لیے لڑنے والی افشاں لطیف جو کاشانہ ویلفیئر کی سابق سپرینٹنڈنٹ بھی رہ چکی ہیں ۔ یتیم بچیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں ، جبری شادیوں اور کائنات نامی یتیم بچی جسے مسلسل کئی روز تک بھوکا رکھ کے اور تشدد کرنے کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔ پچھلے دو سالوں سے مسلسل لاہور اور اسلام آباد کی سڑکوں پر ہے ۔ یتیم بچیوں کے حقوق کے لئے روز اپنا احتجاج ریکارڈ کراتی ہے ۔ لیکن اس کی دہائیاں کوئی نہیں سنتا ۔
لاپتہ افراد کی خواتین ، کوئی اپنے بھائی کی بازیابی کے لیے، کوئی اپنے شوہر کی بازیابی کے لیے، کوئی اپنے بیٹے کی بازیابی کے لیے پورے پاکستان میں جگہ جگہ احتجاج کر رہی ہیں۔ ان مظلوم خواتین کی آواز کوئی نہیں سنتا ۔

پچھلے برس ستمبر میں بہاولپور میں غریب محنت کش کی بیس سالہ بیٹی طاہرہ کو زمیندار کے بیٹے نے اپنی حوس کا نشانہ بنایا ، مظلوم لڑکی کا والد تھانے کے چکر لگاتا رہا ۔ اس لڑکی کے والد کی تھانے میں تذلیل کی گئی ۔ اس کی بات تک نہ سنی گئی ، لڑکی نے دل برداشتہ ہو کر خودکشی کر لی۔ اس کے کہے گئے آخری الفاظ نے ہر درد دل رکھنے والے انسان کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا کہ “ابا آپ کل سر اٹھا کر جیو گے ”
موٹروے زیادتی کیس بھی سامنے ہے جس میں قصور وار عورت کو ٹھہرایا گیا جس کے ساتھ ظلم ہوا تھا۔ عورت کے ساتھ ظلم و زیادتی ہو، ہمارے معاشرے کی یہ روایت بن چکی ہے کہ سب سے پہلے عورت کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ ہر بندہ اپنی ذہنیت کے مطابق عورت کو مورد الزام ٹھہرانے کی کوشش کرے گا کہ متاثرہ عورت نے لباس ایسا پہنا ہو گا ، ویسا پہنا ہو گا ۔اچھی طرح یاد ہے کہ میں اینکر فروا وحید کا پروگرام دیکھ رہا تھا؛ سوشل میڈیا پر وڈیو بھی شئیر کی تھی جس میں ایک شخص سے سوال ہوتا ہے کہ آپ کے خیال میں خواتین کے ساتھ زیادتی کی وجوہات کیا ہیں؟ تو اس شخص نے بڑی ڈھٹائی سے جواب دیا کہ جب آپ سکرٹ پہن کر باہر نکلیں گی تو زیادتیاں تو ہونگی ۔ میرے خیال سے اس شخص نے اپنی گندی ذہنیت کو بیان کیا ۔ اس شخص کی اس بات کا اسلامی جواب یہ ہے کہ اگر عورت کو پردے کا حکم ہے تو مرد کو بھی آنکھوں کے پردے کا حکم ہے۔ بے حیائی کا منظر آپ کے سامنے آیا ہے تو نظریں جھکا لو۔ استغفار کرتے ہوئے وہاں سے کنارہ کشی اختیار کر لو ۔ لا حول ولا قوتہ کا ورد کرو ۔ اپنے نفس پر قابو پاؤ۔
اگر اس شخص کے اس سوال پر مذہبی اعتبار سے ہٹ کر بات کی جائے تو آپ فحاشی کو ہی ڈھونڈنے باہر نکلتے ہو کیا؟ آپ کو کس نے حق دیا کہ ہر چلتی ہوئی عورت پر نظر رکھو۔ اکثر کیسز رپورٹ ہوتے رہتے ہیں کہ معصوم بچیوں کے ساتھ فلاں شہر میں زیادتی ہوئی ہے، زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا۔ زینب کیس اس کی مثال ہے۔ یہ کہنا کہ لباس اسلامی نہیں ہو گا تو زیادتی ہو گی ۔ لیکن ننھی پریوں میں بھی فحاشی نظر آتی ہے ؟ اس سے پتا چلتا ہے کہ خواتین کے ساتھ جرائم کا تعلق لباس سے نہیں گندی سوچ سے ہے۔

عورت مارچ پر اعتراض کرنے والوں سے گزارش ہے کہ آپ لوگوں کے رویے نے عورت کو سڑکوں پر احتجاج کرنے پر مجبور کیا ہے ۔ جب آپ لوگوں کو وہ عورتیں جو اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے احتجاج کر رہی ہیں، نظر نہیں آتیں۔ جب افشاں لطیف، جو یتیم بچیوں کے ساتھ ہوئی زیادتیوں کے خلاف سڑکوں پر نکلتی ہے لیکن آپ لوگوں کو نظر نہیں آتی ۔ خواتین کے عالمی دن پر اگر عورت مارچ کے بہانے خواتین پر ہونے والے مظالم پوری دنیا کے سامنے لائے جاتے ہیں ۔ وہ جائیداد کا حق مانگنے سڑکوں پر نکلیں تو آپ کہتے ہیں فحاشی پھیلانے نکلی ہیں۔ اس لئے یہ عورت مارچ ہونا چاہیے. معاشرے میں شعور پھیلانے کے لیے کہ عورت کو کمزور مت سمجھو، اسے انسان سمجھو.

Leave a Reply